**کراچی/تفتان (ایچ آر این ڈبلیو):** ایران میں ہونے والے حالیہ میزائل حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے کراچی کے نوجوان **یاسر خان** کی میت پاکستان لانے کے لیے قانونی و انتظامی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ غم سے نڈھال اہلخانہ میت کی وصولی کے لیے تفتان بارڈر پہنچ گئے ہیں۔
### **اہلخانہ کی جدوجہد اور تفتان آمد**
جاں بحق نوجوان کے بھائی **واجد خان** کے مطابق، وہ اور خاندان کے دیگر افراد اس وقت تفتان بارڈر پر موجود ہیں تاکہ ضروری قانونی دستاویزات اور ضابطے کی کارروائی مکمل کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی پوری کوشش ہے کہ تمام مراحل جلد از جلد طے پائیں تاکہ میت کو آبائی شہر کراچی منتقل کیا جا سکے۔
### **ایدھی فاؤنڈیشن کے انتظامات**
انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خدمات انجام دینے والے ادارے **ایدھی فاؤنڈیشن** نے میت کی منتقلی کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے ہیں:
* تفتان بارڈر سے میت کی وصولی کے بعد اسے کراچی منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس اور عملہ الرٹ ہے۔
* جیسے ہی قانونی کارروائی مکمل ہوگی، میت کو کراچی روانہ کر دیا جائے گا۔
### **یاسر خان کا پس منظر**
جاں بحق ہونے والا یاسر خان کراچی کے ساحلی علاقے **ماڑی پور، یونس آباد** کا رہائشی تھا۔ وہ روزگار یا دیگر ضروریات کے سلسلے میں ایران میں مقیم تھا جہاں وہ میزائل حملے کی زد میں آکر جان کی بازی ہار گیا۔ نوجوان کی اچانک موت کی خبر سن کر یونس آباد کے علاقے میں کہرام مچ گیا اور فضا سوگوار ہے۔
واضح رہے کہ حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ بیرونِ ملک حادثات کا شکار ہونے والے پاکستانی شہریوں کی میتوں کی جلد واپسی کے لیے سفارتی سطح پر تعاون کو مزید بہتر بنائیں۔
—
### **آزاد صحافت کا ساتھ دیں**
**ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی (HRNW)** دنیا کا نمبر 1 انسانی حقوق کا نیوز پورٹل ہے، جو متاثرہ خاندانوں کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
👉 **[Support HRNW: hrnww.com/support-us](https://hrnww.com/support-us)**


