49

میہڑ تہرہ قتل کیس کا 6 سال بعد فیصلہ، سردار خان اور برہان چانڈیو بری!

**دادو (ایچ آر این ڈبلیو):** سندھ کی تاریخ کے سب سے زیادہ زیرِ بحث رہنے والے “تہرے قتل کیس” (Triple Murder Case) کا 6 سال بعد حتمی فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔ دادو کی ماڈل کورٹ نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تمام نامزد ملزمان بشمول پی پی پی کے سابق اراکینِ اسمبلی سردار خان چانڈیو اور برہان خان چانڈیو کو عدم شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا ہے۔

### **کیس کا پس منظر اور لرزہ خیز واقعہ**
یہ خونریز واقعہ **17 جنوری 2018** کو میہڑ (ضلع دادو) میں پیش آیا تھا، جہاں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے اُمِ رباب چانڈیو کے والد **مختار چانڈیو**، دادا **کرم اللہ چانڈیو** اور چچا **قابل چانڈیو** کو ان کے گھر کے باہر بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔ اس وقت اُمِ رباب کی عمر بہت کم تھی، لیکن انہوں نے اس ظلم کے خلاف تنِ تنہا آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

### **اُمِ رباب چانڈیو کی جدوجہد: “ننگے پاؤں انصاف کی تلاش”**
یہ کیس اس وقت ملک گیر سطح پر مشہور ہوا جب اُمِ رباب چانڈیو نے سندھ کے سرداری نظام کے خلاف ننگے پاؤں عدالتوں کے چکر لگانا شروع کیے۔ ان کا موقف تھا کہ بااثر سیاسی و قبائلی سرداروں نے ان کے خاندان کو تباہ کیا ہے اور پولیس سیاسی دباؤ کی وجہ سے ملزمان کو گرفتار کرنے سے گریزاں ہے۔ اس جدوجہد پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی کیس کا نوٹس لیا تھا اور کئی سالوں تک یہ مقدمہ دادو، حیدرآباد اور کراچی کی عدالتوں میں زیرِ سماعت رہا۔

### **عدالتی فیصلہ اور بریت کی وجوہات**
آج دادو کی ماڈل کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ (Prosecution) ملزمان کے خلاف ایسے ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا جو شک سے بالاتر ہوں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق:
* جرم ثابت نہ ہونے پر **سردار خان چانڈیو** اور **برہان خان چانڈیو** کو باعزت بری کیا جاتا ہے۔
* دیگر نامزد ملزمان مرتضیٰ چانڈیو اور ذوالفقار چانڈیو کو بھی ریلیف مل گیا۔

### **عدالتی نظام پر سوالات اور مستقبل کا لائحہ عمل**
اُمِ رباب چانڈیو نے اس فیصلے پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ یہ موقف اپنایا ہے کہ وہ آخری سانس تک ہار نہیں مانیں گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق اُمِ رباب اس فیصلے کو **سندھ ہائی کورٹ** میں چیلنج کرنے کا حق رکھتی ہیں۔ اس ہائی پروفائل کیس کے فیصلے نے ایک بار پھر سندھ کے سرداری نظام، تفتیشی عمل کی کمزوریوں اور عدالتی نظام میں انصاف کی فراہمی پر کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

### **آزاد صحافت کا ساتھ دیں**

**ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی (HRNW)** دنیا کا نمبر 1 انسانی حقوق کا نیوز پورٹل ہے، جو مظلوم کی آواز بننے اور انصاف کے حصول کی جدوجہد کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

👉 **[Support HRNW: hrnww.com/support-us](https://hrnww.com/support-us)**

اپنا تبصرہ بھیجیں