اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) وزارتِ تجارت پاکستان نے ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے زمینی راستے سے برآمدات پر بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ (LC) کی شرط سے عارضی استثنیٰ دینے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت برآمدکنندگان کو تین ماہ کے لیے فنانشل انسٹرومنٹس سے جزوی چھوٹ حاصل ہوگی۔
وزارت تجارت کے مطابق یہ خصوصی رعایت 24 مارچ سے 21 جون 2026 تک نافذ العمل رہے گی، جس کے دوران ایران کے راستے آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ممالک کو زمینی برآمدات کی اجازت دی گئی ہے۔ اقدام کا مقصد علاقائی تجارت کو فروغ دینا اور برآمدکنندگان کے لیے سہولت پیدا کرنا ہے۔
اعلان کے مطابق ایران کو چاول، سمندری خوراک، آلو، گوشت، پیاز، مکئی اور پھلوں سمیت متعدد اشیاء برآمد کی جا سکیں گی، جبکہ فارماسیوٹیکل مصنوعات اور ٹینٹس کی برآمدات بھی رعایت میں شامل ہیں۔ تاہم برآمدی آمدن مقررہ مدت میں وطن واپس لانے کی شرط برقرار رہے گی، جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ضوابط سے جزوی استثنیٰ حاصل ہوگا۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ حکومت برآمدات کے فروغ اور تاجروں کی سہولت کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق ایران کے راستے وسطی ایشیا اور آذربائیجان کو چاول کی برآمد ممکن ہو سکے گی اور ادویات کی برآمدات میں حائل رکاوٹیں دور کرنا اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی رابطوں اور تجارتی حجم میں اضافے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، جبکہ ایران کے راستے تجارت سے برآمدکنندگان کے اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی۔ حکومت کا ہدف برآمدات میں اضافہ کر کے ملک کو معاشی استحکام کی جانب لے جانا ہے۔


