41

وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ: کم عمر مسیحی لڑکی کے مسلمان لڑکے سے نکاح کو جائز قرار دے دیا

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)وفاقی آئینی عدالت نے کم عمری میں نکاح کے حوالے سے اہم فیصلہ جاری کیا ہے۔ عدالت نے 18 سال سے کم عمر مسیحی لڑکیوں کی مسلمان مردوں سے شادی کو شرعی طور پر جائز قرار دیا اور کہا کہ مسلمان مرد اہلِ کتاب خواتین کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ چائلڈ میرج ایکٹ 1929 کے تحت کم عمری کی شادی پر سزا دی جا سکتی ہے، لیکن نکاح خود ختم نہیں ہو سکتا۔ قانون میں صرف فوجداری سزا کا تذکرہ موجود ہے اور کم عمری کی شادی کے نکاح کو کالعدم کرنے کا کوئی ذکر موجود نہیں۔

فیصلے میں عدالت نے لاہور کی رہائشی ماریہ بی بی اور شہریار نامی لڑکے کے نکاح کو درست تسلیم کیا۔ عدالت کے مطابق ماریہ نے نکاح سے قبل اسلام قبول کیا اور اس کا ڈیکلریشن موجود ہے۔ عدالت نے کہا کہ حبس بے جا کی درخواست میں لڑکی کی عمر یا دارالافتا کی دستاویزات کی درستگی کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔

عدالت نے آئینی تشریح کے حوالے سے کہا کہ حتمی فورم وفاقی آئینی عدالت ہے اور سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتیں آئینی عدالت کے فیصلے کی پابند ہیں۔ آئینی عدالت سپریم کورٹ کے ایسے فیصلوں کی پابند نہیں جو آئین یا قانون سے متصادم ہوں۔

واضح رہے کہ ماریہ کے والد نے کم عمر ہونے کی بنیاد پر حبس بے جا کی درخواستیں دائر کی تھیں جو آئینی عدالت نے خارج کر دی ہیں۔ عدالت نے والد کے بیانات میں تضاد اور دستاویزات میں شک کو بھی نوٹ کیا۔

فیصلے کے مطابق ماریہ نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا کہ اس نے اپنی مرضی سے بغیر کسی دباؤ کے نکاح کیا۔

یہ فیصلہ کم عمری کے نکاح کے قانونی پہلوؤں اور اہلِ کتاب خواتین کے ساتھ شادی کے شرعی جواز کے حوالے سے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں