**لاہور (ایچ آر این ڈبلیو):** لاہور ہائیکورٹ نے 16 ارب روپے کے منی لانڈرنگ مقدمے میں وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کے خلاف دائر درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے رجسٹرار آفس کی جانب سے درخواست گزار کے “متاثرہ فریق” نہ ہونے کے اعتراض کو برقرار رکھا۔
### **سماعت کی تفصیلات اور وکلاء کے دلائل**
لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے اس کیس کی سماعت کی۔ یہ درخواست ایڈووکیٹ وشال احمد شاکر نے سینئر قانون دان عامر سعید راں کی وساطت سے دائر کی تھی، جس میں اسپیشل سینٹرل کورٹ کے بریت کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔
* **درخواست گزار کا موقف:** وکیل نے دلیل دی کہ شہباز شریف نے وزیراعظم بننے کے محض 15 روز کے اندر اپنے حق میں فیصلہ کروایا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ فردِ جرم عائد ہونے سے پہلے ہی ملزمان کو بری کر دیا گیا، جبکہ پراسیکیوشن کو 100 کے قریب گواہ اور اربوں روپے کی مبینہ بدعنوانی کے شواہد پیش کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ وکیل نے استدعا کی کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔
### **چیف جسٹس کے ریمارکس اور فیصلہ**
سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست گزار کی قانونی حیثیت (Locus Standi) پر اہم سوالات اٹھائے:
1. **متاثرہ فریق کی حیثیت:** چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ درخواست گزار اس مقدمے میں کس طرح “متاثرہ فریق” (Aggrieved Party) ہیں؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ کوئی بھی شخص کئی سالوں بعد آکر کسی فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتا۔
2. **عوامی مفاد کا پہلو:** عدالت نے واضح کیا کہ یہ “عوامی مفاد” (Public Interest) کا کیس نہیں ہے جس میں کوئی بھی تیسرا فریق مداخلت کر سکے۔
3. **تاخیر پر سوال:** چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس مقدمے کو گزرے ہوئے کافی عرصہ ہو چکا ہے اور اب اتنی تاخیر سے عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔
عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو درست قرار دیتے ہوئے درخواست مسترد کر دی۔ اس فیصلے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی اس مقدمے میں بریت برقرار ہے۔
—–
**آزاد صحافت کی حمایت کریں:** ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) احتساب کے عمل اور اعلیٰ عدالتوں کی کارروائی کی درست اور بروقت رپورٹنگ آپ تک پہنچاتا ہے۔ ہماری اس مشن میں معاونت کے لیے آج ہی [hrnw.com/support-us](https://www.google.com/search?q=https://hrnw.com/support-us) پر جا کر اپنا تعاون پیش کریں۔


