42

کراچی میں ٹریفک حادثات کا خونی رقص: رواں سال اب تک 246 ہلاکتیں

**کراچی (ایچ آر این ڈبلیو):** شہرِ قائد کی سڑکیں انسانی جانوں کے لیے مقتل گاہ بن چکی ہیں، جہاں ٹریفک حادثات کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ سال 2026 کے ابتدائی مہینوں میں اب تک مجموعی طور پر **246 افراد** مختلف ٹریفک حادثات میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جو کہ شہر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور ناقص انتظامی کنٹرول پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

### **جانی نقصان کی تفصیلات**

ایچ آر این ڈبلیو کو موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، جاں بحق ہونے والے 246 افراد میں معاشرے کے تمام طبقات شامل ہیں:

* **مرد:** 178
* **خواتین:** 33
* **بچے:** 26
* **بچیاں:** 9

### **ہیوی ٹریفک: موت کا سب سے بڑا سبب**

رپورٹ کے مطابق رواں سال صرف ہیوی ٹریفک کی بے لگام رفتار اور غفلت نے **83 قیمتی جانیں** نگل لی ہیں۔ ان حادثات میں ملوث گاڑیوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

| گاڑی کی قسم | جاں بحق افراد کی تعداد |
| :— | :—: |
| **ٹریلر** | 37 |
| **واٹر ٹینکر** | 23 |
| **بسیں** | 11 |
| **منی ٹرک** | 7 |
| **ڈمپر** | 5 |

### **شہریوں کا احتجاج اور انتظامیہ کی خاموشی**

واٹر ٹینکرز اور ٹریلرز کی جانب سے مچی اس تباہی نے شہریوں میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شہر کے گنجان آباد علاقوں میں ہیوی ٹریفک کا داخلہ اور تیز رفتاری ان حادثات کی بنیادی وجہ ہے، مگر ٹریفک پولیس اور متعلقہ ادارے ان “خونی گاڑیوں” کو لگام ڈالنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔

انصاف کے منتظر لواحقین نے حکومتِ سندھ اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ہیوی ٹریفک کے لیے مخصوص اوقاتِ کار (Timings) پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور حادثات کے ذمہ دار ڈرائیوروں کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جائیں۔

—–

**آزاد صحافت کی حمایت کریں:** ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) کراچی کے شہریوں کے مسائل اور عوامی تحفظ کے لیے مسلسل آواز بلند کر رہا ہے۔ ہماری اس مشن میں معاونت کے لیے آج ہی [hrnw.com/support-us](https://www.google.com/search?q=https://hrnw.com/support-us) پر جا کر اپنا تعاون پیش کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں