**نیویارک (ایچ آر این ڈبلیو):** امریکہ کے معروف یہودی اسکالر اور ممتاز مصنف رّبی یعقوب شاپیرو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پوری دنیا کے یہودیوں کے نمائندے نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا طرزِ عمل یہودیت کے اصل اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام ‘کیپٹل ٹاک’ میں میزبان حامد میر کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے صیہونی ریاست اور یہودیت کے درمیان فرق کو واضح کیا۔
### **اہم نکات اور گفتگو کا خلاصہ**
رّبی یعقوب شاپیرو نے انٹرویو کے دوران کئی اہم مذہبی اور سیاسی پہلوؤں پر روشنی ڈالی:
* **نمائندگی کی نفی:** انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ نیتن یاہو خود کو تمام یہودیوں کا لیڈر بنا کر پیش کرتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے؛ نیتن یاہو اور یہودیوں میں واضح فرق ہے۔
* **سیکولر بمقابلہ مذہبی ریاست:** رّبی شاپیرو کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایک سیکولر ملک ہے جس کا حقیقی یہودیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کا موجودہ وزیراعظم خود یہودیت کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتا۔
* **ایران جنگ کی مخالفت:** انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف جنگی جنون کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کے ماننے والے اس جنگ کے مکمل خلاف ہیں۔
* **گریٹر اسرائیل کا نظریہ:** رّبی شاپیرو نے واضح کیا کہ ‘گریٹر اسرائیل’ (ارصِ اسرائیل) کے سیاسی نظریے کا یہودیت کے مذہبی عقائد سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سیاسی ایجنڈا ہے۔
### **سفارتی اور عالمی اثرات**
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں مقیم یہودی برادری کے اندر نیتن یاہو کی پالیسیوں اور غزہ و ایران کے حوالے سے ان کے جارحانہ اقدامات پر تنقید بڑھ رہی ہے۔ رّبی شاپیرو جیسے اسکالرز کا موقف اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ صیہونیت (Zionism) اور یہودیت (Judaism) دو الگ الگ نظریات ہیں، اور اسرائیل کی حکومت کی کارروائیاں مذہبِ یہود کی عکاسی نہیں کرتیں۔
—–
**آزاد صحافت کی حمایت کریں:** ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) عالمی سطح پر اٹھنے والی اہم آوازوں اور متنوع نظریات کو آپ تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔ ہماری اس مشن میں معاونت کے لیے آج ہی [hrnw.com/support-us](https://www.google.com/search?q=https://hrnw.com/support-us) پر جا کر اپنا تعاون پیش کریں۔


