**کابل/واشنگٹن (ایچ آر این ڈبلیو):** ایک اہم سفارتی پیش رفت میں افغان طالبان نے امریکی شہری ڈینس والٹر کوائل کو رہا کر دیا ہے، جو گزشتہ ایک سال سے بغیر کسی رسمی الزام کے افغانستان میں قید تھے۔ 64 سالہ کوائل کی رہائی امریکی انتظامیہ کے دباؤ اور عید کے موقع پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی اپیلوں کا نتیجہ بتائی جا رہی ہے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، ڈینس والٹر کوائل کی رہائی کا حکم طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نے جاری کیا۔ کوائل گزشتہ 20 سالوں سے افغانستان میں مختلف منصوبوں پر کام کر رہے تھے، تاہم ایک سال قبل انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔ ان کے اہل خانہ نے حال ہی میں عید کے موقع پر سزا معافی اور رہائی کے لیے خصوصی درخواست کی تھی۔
### **سفارتی دباؤ اور ثالثی کا کردار**
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس رہائی کے پیچھے ٹرمپ انتظامیہ کا سخت موقف اور موثر سفارتی حکمت عملی کارفرما رہی ہے:
* **امریکی دباؤ:** امریکی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے افغان طالبان پر اپنے شہریوں کی رہائی کے لیے شدید دباؤ ڈالا تھا، جسے موجودہ حالات میں طالبان کی جانب سے ایک مثبت جواب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
* **متحدہ عرب امارات کی ثالثی:** اس پوری کارروائی اور مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے میں متحدہ عرب امارات (UAE) نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کی ثالثی کے نتیجے میں کوائل کی بحفاظت واپسی ممکن ہو سکی۔
* **انسانی ہمدردی کا پہلو:** اگرچہ سیاسی دباؤ ایک بڑا عنصر تھا، لیکن طالبان قیادت نے اس فیصلے کو اہل خانہ کی اپیل اور مذہبی تہوار کے تناظر میں انسانی ہمدردی کے جذبے کے طور پر پیش کیا ہے۔
ڈینس والٹر کوائل کی رہائی کو کابل اور واشنگٹن کے درمیان مستقبل کے تعلقات اور دیگر زیرِ حراست غیر ملکیوں کے معاملے میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
—–
**آزاد صحافت کی حمایت کریں:** ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) عالمی سیاست اور انسانی حقوق سے جڑی ہر بڑی خبر آپ تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ ہماری اس مشن میں معاونت کے لیے آج ہی [hrnw.com/support-us](https://www.google.com/search?q=https://hrnw.com/support-us) پر جا کر اپنا تعاون پیش کریں۔


