49

پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج میں غیر معمولی فرق، سرمایہ کاروں کو اربوں روپے کا نقصان

کراچی(ایچ ‌آراین ڈبلیو)پاکستان بزنس گروپ کےبانی اورکورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(KATI)کے سابق چیئرمین فراز الرحمن نے پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج (PMEX) میں مقامی ٹریڈنگ ریٹس اور عالمی مارکیٹ کی قیمتوں کے درمیان غیر معمولی فرق پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

فراز الرحمن نے بتایا کہ بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں، خصوصاً ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ، اور PMEX میں مقامی ٹریڈنگ ریٹس کے درمیان فرق کبھی کبھار ایک امریکی ڈالر سے بھی تجاوز کر جاتا ہے، جو عالمی مارکیٹ میں معمول کے مطابق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال شفافیت کی کمی اور مؤثر نگرانی کے فقدان کی نشاندہی کرتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ حل کرنے کے لیے ڈرامائی یا مصنوعی قیمتوں میں تبدیلی کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کا حل سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کی شفاف اور منصفانہ نگرانی کے ذریعے ممکن ہے۔

فراز الرحمن نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں خرید و فروخت کی قیمتوں میں اتنا بڑا فرق بہت غیر معمولی ہے، اور پاکستان کی موجودہ صورتحال قیمتوں کی شفافیت اور ضابطہ کار نگرانی پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ مسئلہ فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو سرمایہ کار اپنے تحفظات بین الاقوامی فورمز پر اٹھانے پر مجبور ہو سکتے ہیں، جس سے مارکیٹ کے اعتماد پر اثر پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری مداخلت کی جائے اور متعلقہ حکام سرمایہ کاروں کے اثاثے محفوظ کرنے، ٹیکس آمدنی کی حفاظت اور مزید مالی نقصانات کو روکنے کے لیے شفاف اقدامات کریں۔

فراز الرحمن نے زور دیا کہ ایکسچینج کو مضبوط اور مستحکم بنانا پورے ملک کے مفاد میں ہے۔ شفافیت اور مؤثر نگرانی یقینی بنانے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا اور پاکستان کے مالیاتی بازار بین الاقوامی معیارات کے مطابق کام کر سکیں گے۔

انہوں نے متعلقہ حکام سے فوری جائزہ لینے اور مارکیٹ میں قیمتوں کے نظام کو واضح اور شفاف بنانے کی اپیل کی تاکہ سرمایہ کاروں کا سرمایہ محفوظ رہے اور پاکستان کے مالیاتی بازار مستحکم اور قابل اعتماد ترقی کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں