کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث پاکستان میں پیدا ہونے والے پیٹرولیم بحران کا خدشہ تو ختم ہو گیا ہے، لیکن عوام اب یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ جب پیٹرول کے جہاز مسلسل بندرگاہوں پر پہنچ رہے ہیں تو پھر قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کا ‘بم’ ان پر کیوں گرایا جا رہا ہے؟ پورٹ قاسم کے ترجمان کے مطابق ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے جہازوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس میں ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہو چکا ہے جبکہ ایم ٹی ناوے ایٹروپوس 50 ہزار میٹرک ٹن، ایم ٹی اسپروس 2 تقریباً 55 ہزار میٹرک ٹن اور ایم ٹی سی کلپر 34 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول لے کر بندرگاہ پہنچ چکے ہیں۔ ان جہازوں کی آمد کے باوجود رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں پیٹرول کی قیمتوں میں بھاری اضافہ عوام کے لیے کسی معاشی سازش سے کم نہیں، کیونکہ سپلائی لائن بحال ہونے کے باوجود قیمتیں بڑھانا ٹرانسپورٹیشن اور اشیاءِ خوردونوش کو مزید مہنگا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ قوم حکمرانوں سے جواب چاہتی ہے کہ اگر فجیرہ سے پیٹرول کے جہاز پہنچ رہے ہیں تو پھر بین الاقوامی کشیدگی کا بہانہ بنا کر مقامی سطح پر عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیسنے کا کیا جواز ہے؟
—
عوامی مسائل اور حکومتی فیصلوں کے اثرات پر مستند رپورٹنگ ہمارا خاصہ ہے۔ مہنگائی اور معاشی صورتحال پر تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ہمارے کام میں تعاون کریں: [hrnww.com/support-us]


