کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) ملک میں بڑھتے ہوئے پیٹرولیم بحران اور معاشی دباؤ کے پیشِ نظر حکومتِ سندھ نے پورے صوبے میں انتہائی سخت ‘کفایت شعاری پالیسی’ نافذ کر دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے جاری کردہ ان ہنگامی احکامات کا مقصد سرکاری اخراجات میں فوری کمی لانا اور ایندھن کی بچت کو یقینی بنانا ہے۔
#### **سرکاری اخراجات اور پیٹرول کوٹہ پر بڑا وار**
حکومت نے سرکاری مشینری کے لیے ایندھن کے استعمال میں فوری طور پر **50 فیصد کٹوتی** کا اعلان کیا ہے۔ تمام وزراء، مشیروں اور بیوروکریٹس کا پیٹرول کوٹہ آدھا کر دیا گیا ہے، جبکہ غیر ضروری سرکاری گاڑیوں کو فوری طور پر کھڑا کرنے (بند کرنے) کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، جون 2026 تک نئی گاڑیوں کی خریداری اور ہر قسم کی مہنگی سرکاری خریداری پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔
#### **ورک کلچر میں بڑی تبدیلی: چار روزہ ورک ویک**
صوبے بھر میں توانائی کی بچت کے لیے اب ہفتے میں صرف **4 دن دفاتر کھلیں گے**، جبکہ 3 دن سرکاری تعطیل ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری دفاتر کے لیے ‘ورک فرام ہوم’ پالیسی متعارف کرائی گئی ہے جس کے تحت **50 فیصد عملہ** گھر سے کام کرے گا اور تمام دفتری اجلاس اب صرف ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوں گے۔
#### **تعلیمی اداروں اور عوامی تقریبات کے لیے نئی پابندیاں**
تعلیمی شعبے میں بڑے فیصلے لیتے ہوئے صوبے بھر کے اسکولوں کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے، جبکہ کالجز اور یونیورسٹیز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ **100 فیصد آن لائن کلاسز** پر منتقل ہو جائیں۔ شادی ہالز کے لیے بھی نیا ضابطہ جاری کیا گیا ہے جس کے تحت مہمانوں کی تعداد **200** تک محدود کر دی گئی ہے اور صرف ایک ڈش کی اجازت ہوگی۔
#### **قربانی کی مثال: تنخواہوں میں کٹوتی**
عوامی غیظ و غضب کو کم کرنے کے لیے وزراء اور مشیروں نے اپنی **تین ماہ کی تنخواہ** چھوڑنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اعلیٰ افسران نے بھی رضاکارانہ طور پر اپنی دو دن کی تنخواہ قومی خزانے میں جمع کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مزید برآں، بیرونِ ملک سرکاری دوروں پر پابندی لگا دی گئی ہے اور انتہائی ضروری سفر کے لیے صرف **اکانومی کلاس** کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
حکومت نے موٹر ویز اور ہائی ویز پر بھی نئی ہدایات جاری کی ہیں، جس کے تحت ایندھن کی بچت کے لیے رفتار کی حد میں کمی لائی گئی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے۔ سرکاری افطار پارٹیوں پر بھی مکمل پابندی عائد رہے گی۔
—
معاشی بحران اور حکومتی پالیسیوں پر نظر رکھنا قومی فریضہ ہے۔ عوامی مفاد کے منصوبوں اور سرکاری اصلاحات پر مستند رپورٹنگ کے لیے ہمارے کام میں تعاون کریں: [hrnww.com/support-us](


