**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اور تیل کی بچت کے پیشِ نظر بڑے پیمانے پر کفایت شعاری اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ قومی یکجہتی کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہ تھی، لہٰذا حکومت نے تیل کی بچت کے لیے ہفتے میں ایک اضافی چھٹی کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد اب دفاتر ہفتے میں صرف 4 دن کھلیں گے۔ تاہم، وزیراعظم نے واضح کیا کہ اس اضافی چھٹی کا اطلاق بینکوں پر نہیں ہوگا۔
کفایت شعاری مہم کے تحت سرکاری اور نجی شعبے میں (ضروری خدمات کے علاوہ) 50 فیصد ‘ورک فرام ہوم’ پالیسی نافذ کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری عشائیوں، افطار پارٹیوں اور ہوٹلوں میں سیمینارز یا کانفرنسز کے انعقاد پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، اب تمام اجلاس سرکاری دفاتر میں ہوں گے اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دی جائے گی۔ وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، گورنرز اور سرکاری افسران کے بیرونِ ملک دوروں پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے، جبکہ سرکاری محکموں کے لیے نئی گاڑیوں اور فرنیچر کی خریداری بھی روک دی گئی ہے۔
وزیراعظم نے مزید اعلان کیا کہ تمام سرکاری محکموں کے اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جا رہی ہے اور گریڈ 20 سے اوپر کے وہ افسران جن کی تنخواہ 3 لاکھ سے زائد ہے، ان کی تنخواہ سے 2 دن کی کٹوتی ہوگی۔ ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی جبکہ کابینہ اراکین، وزراء اور مشیر آئندہ دو ماہ تک تنخواہ نہیں لیں گے۔ سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے کوٹے میں 50 فیصد کٹوتی اور 60 فیصد سرکاری گاڑیاں بند کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے، البتہ ایمبولینس اور عوامی بسیں اس سے مستثنیٰ ہوں گی۔ وزیراعظم نے ذخیرہ اندوزوں کو خبردار کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی پر قانون سختی سے حرکت میں آئے گا۔
—
**آزاد صحافت کی حمایت کریں:** ہم HRNW میں آپ تک حقائق پہنچانے اور سچائی کو بے نقاب کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہماری اس مہم میں ہمارا ساتھ دیں اور معیاری صحافت کے تسلسل کے لیے ہمیں سپورٹ کریں۔ آج ہی وزٹ کریں: [hrnw.com/support-us]


