**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** — مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی فضائی ٹریفک کے راستوں میں تبدیلی آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے والی بین الاقوامی پروازوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس وقت پاکستان کی فضائی حدود سے یومیہ گزرنے والی پروازوں کی تعداد **700 سے تجاوز کر چکی ہے**، جس کے باعث ملک کو اوور فلائنگ فیس کی مد میں خاطر خواہ مالی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان پروازوں سے پاکستان کو **یومیہ تقریباً 8 لاکھ ڈالر** آمدن حاصل ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی خطرات کے باعث متعدد بین الاقوامی ایئر لائنز نے اپنے روٹس تبدیل کرتے ہوئے پاکستان کی فضائی حدود کو نسبتاً محفوظ راستہ سمجھتے ہوئے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس تبدیلی سے نہ صرف عالمی فضائی ٹریفک کے نقشے میں ردوبدل ہوا ہے بلکہ پاکستان کے لیے اضافی زرِمبادلہ حاصل کرنے کا ایک نیا موقع بھی پیدا ہوا ہے۔
فضائی حکام کے مطابق بڑھتی ہوئی پروازوں کے باوجود فضائی ٹریفک کو مؤثر انداز میں منظم رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ بین الاقوامی پروازوں کی آمدورفت میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں کی تعداد اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ ✈️


