**راولپنڈی (ایچ آراین ڈبلیو):** پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (ISPR) کے ڈائریکٹر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا الجزیرہ ٹی وی کو دیا گیا حالیہ انٹرویو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اس انٹرویو میں انہوں نے خطے کی موجودہ صورتحال اور پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی پر دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے۔
الجزیرہ کی جانب سے پوچھے گئے اس سوال پر کہ “اگر ایران کے بعد اگلا ہدف پاکستان ہوا تو آپ کی کیا تیاری ہے؟” ڈی جی آئی ایس پی آر نے انتہائی پراعتماد انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا:
> “پاکستان کے عسکری اداروں میں اس بات کی کوئی پریشانی نہیں کہ اگلا ہدف پاکستان ہوگا یا نہیں۔ پاکستان اور دیگر ممالک میں واضح فرق ہے؛ ہم ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہیں۔ دنیا کو کبھی یہ تجربہ نہیں ہوا کہ وہ کسی ایٹمی طاقت کو آزمائے۔ اگر ایسا کچھ ہوا تو دنیا میں وہ کچھ ہوگا جس کا تصور شاید اب تک کسی نے نہیں کیا ہوگا۔”
انہوں نے مزید خبردار کیا کہ کسی ایٹمی قوت کے ساتھ ٹکراؤ کے ایسے نتائج برآمد ہوں گے جو شاید دنیا برداشت نہ کر سکے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے بیان کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایٹمی طاقت کو چیلنج کرنا ایک “بہت بڑی حماقت” اور “ناقابلِ تصور عمل” ہوگا، جس کا خمیازہ حملہ آور کو بھگتنا پڑے گا۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں بڑی طاقتوں کے درمیان فوجی تصادم عروج پر ہے اور پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہائی الرٹ پر ہے۔
——-
قومی سلامتی اور حساس دفاعی معاملات پر درست اور مستند معلومات تک رسائی کے لیے آزاد صحافت کا ساتھ دیں۔ آپ کا تعاون ہمیں حقائق آپ تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے: [hrnww.com/support-us]


