58

تہران میں شدید دھماکے: امریکہ کا پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ہیڈ کوارٹر کی تباہی کا دعویٰ

**تہران (ایچ آراین ڈبلیو):** ایرانی دارالحکومت تہران پیر کی رات ایک بار پھر زوردار دھماکوں سے لرز اٹھا، جس کے بعد خوف و ہراس کے عالم میں شہری گھروں سے باہر نکل آئے۔ عینی شاہدین کے مطابق تہران کی فضا دھویں اور آگ کے شعلوں سے بھر گئی، جبکہ مساجد اور گلیوں میں ‘اللہ اکبر’ کے نعرے گونجنے لگے۔ یہ دھماکے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف “آپریشن ایپک فیوری” (Operation Epic Fury) تیسرے دن میں داخل ہو چکا ہے۔

### **امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا بیان**

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ تازہ فضائی کارروائیوں میں ایران کے اندر **1000 سے زائد اہداف** کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق ان حملوں کا بنیادی ہدف پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا مرکزی ہیڈ کوارٹر تھا جسے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ:

* **آئی آر جی سی ایرو اسپیس فورسز** کے ہیڈ کوارٹر کو بھی نشانہ بنا کر مفلوج کر دیا گیا ہے۔
* ایران کی **بیلسٹک میزائل سائٹس** اور زیرِ زمین تنصیبات پر بھاری بمباری کی گئی ہے۔
* خلیجِ عمان اور دیگر ساحلی علاقوں میں **ایرانی بحریہ کے جہازوں** اور کمانڈ سینٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

### **زمینی صورتحال اور نقصانات**

اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کے طیاروں نے تہران کے قلب میں واقع انٹیلی جنس دفاتر اور داخلی سلامتی کے مراکز پر حملے کیے ہیں۔ دوسری جانب، ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی ریاستوں میں قائم امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل پر میزائل داغے ہیں۔ تہران میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہے، تاہم مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی اہم سرکاری عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ مہم تب تک جاری رہے گی جب تک ایران کی فوجی صلاحیتیں مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتیں۔
——
خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور عالمی جنگ کے خطرات پر مستند اور غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کے لیے آزاد صحافت کا ساتھ دیں۔ آپ کا تعاون ہمیں حقائق آپ تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے: [hrnww.com/support-us]

اپنا تبصرہ بھیجیں