60

سندھ میں خواتین، کاروباری سرگرمیوں اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ کے سینیئر وزیر اور اطلاعات، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ کے صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کوہاٹ میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ انتہائی مذمت کے قابل ہے، اور ہمارے نوجوان دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے لڑ رہے ہیں اور ملک کے امن کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ سندھ کابینہ کی حالیہ میٹنگ میں عوام دوست اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ سندھ الیکٹرک ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی گئی ہے تاکہ صوبہ توانائی کے شعبے میں خود کفیل بن سکے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت معاشی طور پر مستحکم ہونے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ زرعی شعبے سے منسلک خواتین کو سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور صوبے بھر میں خواتین کسانوں کا ڈیٹا مرتب کیا جا رہا ہے تاکہ ان کو مؤثر طریقے سے سہولت دی جا سکے۔ حکومت خواتین کسانوں کے لیے نئے منصوبے بھی شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے کاروباری طبقے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں اور تاجر حضرات کو تمام آن لائن سہولیات دس دن کے اندر فراہم کی جائیں گی۔

شرجیل میمن نے بتایا کہ تھرپارکر تک ریلوے لائن بچھائی جا رہی ہے تاکہ سفری اور تجارتی روابط بہتر ہوں، سندھ حکومت نے تھر کول پراجیکٹ میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے تاکہ توانائی کے شعبے کو مضبوط کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر جان بوجھ کر کراچی پر تنقید کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت زمین پر مختلف ہے۔ کراچی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، ہر روز ہزاروں لوگ ملازمت کے لیے کراچی آتے ہیں اور بہتر طبی سہولیات حاصل کرتے ہیں۔ بڑے چیلنجز کے باوجود، کراچی ملک کی معیشت اور ترقی کا محور بنا ہوا ہے۔

سینیئر وزیر نے توانائی کے بحران کو پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا اور کہا کہ سندھ کوئلے سے سب سے سستی بجلی پیدا کر رہا ہے، حکومت نے کول پراجیکٹس میں اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں اور بجلی کو قومی گرڈ میں فراہم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھٹو ہائی وے منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور اپریل کے پہلے یا دوسرے ہفتے باضابطہ افتتاح متوقع ہے۔ انفراسٹرکچر سیس کے تحت جمع شدہ رقم سپریم کورٹ میں جمع کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے ہسپتالوں میں تقریباً 50 فیصد مریض شہر کے باہر سے آتے ہیں، جس کی لاگت سندھ حکومت برداشت کر رہی ہے۔ گمبٹ میں لیور ٹرانسپلانٹ کی سہولت موجود ہے جبکہ پہلے لوگ علاج کے لیے بھارت جاتے تھے۔

شرجیل میمن نے بتایا کہ سندھ پولیس نے پچھلے دو ماہ میں 28 ڈاکو مارے اور 187 ڈاکو سرنڈر ہوئے، پولیس نے کچا علاقوں میں مؤثر کارروائی کی ہے۔

کراچی کے دیگر مسائل کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ریسکیو اور فائر سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے ڈرونز اور سنورکلز خریدے جا رہے ہیں تاکہ آگ کے واقعات پر مؤثر کنٹرول کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کی ترقی جاری ہے، دیگر شہروں کے مقابلے میں یہاں آبادی بہت زیادہ ہے، زیر زمین پانی کی کمی، ٹریفک اور انفراسٹرکچر کے مسائل موجود ہیں، اور سندھ حکومت ان مسائل کے حل کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ہمیشہ پی پی پی سے تعاون کی توقع رکھتی ہے لیکن اس کے نمائندے سندھ حکومت کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں، جس پر قیادت سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں