اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیز تھری کے گریڈ 16 اور اس سے اوپر کے افسران کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے ان کی رکی ہوئی تنخواہیں فوری طور پر جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ فیز تھری کے افسران کو کسی بھی رکاوٹ کے بغیر ان کی متعلقہ منظور شدہ آسامیوں پر ڈیوٹی جوائن کرنے کی اجازت دی جائے۔
سماعت کے دوران عدالت نے گریڈ 16 اور اس سے اوپر کے افسران کے مکمل سروس ڈوزیئرز، آسامیوں کو ریگولر کرنے سے متعلق تمام ریکارڈ اور آفس میمورنڈمز بھی طلب کر لیے۔
عدالت نے حتمی فیصلے تک افسران کے زیرِ قبضہ منظور شدہ آسامیوں کو کسی بھی دوسرے فرد سے پُر کرنے سے روک دیا اور فیز تھری کے افسران کے خلاف برطرفی سمیت کسی بھی قسم کی منفی کارروائی پر پابندی عائد کر دی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے این سی سی آئی اے کے ڈی جی کی جانب سے پٹیشنرز کی ملازمتوں کے خاتمے سے متعلق دیے گئے بیان پر مبنی میڈیا رپورٹس کا بھی نوٹس لینے اور فریقینِ مخالف کو ہدایت دی کہ وہ یہ رپورٹس عدالت کے روبرو پیش کریں۔
عدالت نے مزید حکم دیا کہ 30 نومبر 2025 کو کنٹریکٹ کی توسیع ختم ہونے کے باوجود فرائض انجام دینے والے فیز تھری کے افسران کو تمام بقایا جات اور تنخواہیں فوری طور پر ادا کی جائیں۔


