ممبئی(ایچ آراین ڈبلیو)بھارتی سپریم کورٹ نے ہندی فلم ’گھوس خور پنڈت‘ (رشوت خور پنڈت) کے نام کو ایک مخصوص برادری کے لیے توہین آمیز قرار دیتے ہوئے فلم سازوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ فلم کو کسی متبادل عنوان کے ساتھ ریلیز کریں۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ کسی بھی طبقے کو فلم کے عنوان یا مواد کے ذریعے بدنام کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
فلم کا اعلان نیٹ فلکس نے رواں ماہ اپنی نیٹ انڈیا آن نیٹ فلکس پر کیا تھا اور پہلا ٹیزر بھی جاری کیا گیا تھا۔ تاہم، برہمن برادری نے فلم کے عنوان پر شدید اعتراض کیا اور احتجاج کیا۔
ملک کے مختلف حصوں میں مظاہرے ہوئے، فلم کے پروڈیوسر نیرج پانڈے اور ڈائریکٹر ریتیش شاہ کے پتلے جلائے گئے جبکہ اداکار منوج باجپائی اور نیٹ فلکس کے خلاف بھی مظاہرے ہوئے۔ یوپی کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر لکھنؤ میں فلم کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی۔
نیرج پانڈے نے بیان میں کہا کہ فلم کے نام سے کچھ افراد کو تکلیف پہنچی ہے اور وہ ان جذبات کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام پروموشنل مواد، بشمول پہلا ٹیزر، یوٹیوب اور سوشل میڈیا سے ہٹا دیا گیا ہے۔
فلم کے بارے میں بتایا گیا کہ اسے مکمل طور پر دیکھنے کے بعد ہی اس کا اصل پیغام سمجھا جا سکتا ہے، جزوی جھلکیوں سے فیصلہ کرنا درست نہیں۔
یہ فلم نیرج پانڈے اور ریتیش شاہ کی تحریر ہے جبکہ ریتیش شاہ کی یہ بطور ہدایتکار پہلی فلم ہے۔ فلم میں منوج باجپائی، نُشرت بھروچہ، ساقب سلیم، اکشے اوبرائے اور دیویا دتہ اہم کرداروں میں ہیں۔
فلم رواں سال نیٹ فلکس پر ریلیز کی جائے گی، تاہم اس کی حتمی ریلیز تاریخ کا اعلان ابھی باقی ہے۔


