کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)میئر کراچی کی رخصتی اور ان کے خلاف متوقع تحریکِ عدم اعتماد کے معاملے پر اچانک نیا موڑ سامنے آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور پیپلز پارٹی کے رہنما سلمان مراد بلوچ کے درمیان ون ٹو ون ملاقات کے بعد معاملات میں وقتی مفاہمت ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں بلدیہ کراچی (کے ایم سی) میں اقتدار کی تقسیم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ایم سی کے 54 محکموں کو میئر اور ڈپٹی میئر کے درمیان برابر تقسیم کر دیا گیا ہے، جس کے تحت 27 محکمے میئر جبکہ 27 محکمے ڈپٹی میئر کے زیرِ انتظام ہوں گے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ٹرانسفر، پوسٹنگ، ترقی اور تعیناتی سے متعلق اختیارات بھی تقسیم کیے گئے ہیں، جبکہ بعض محکموں میں یہ ذمہ داریاں میئر اور بعض میں ڈپٹی میئر انجام دیں گے۔
سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو بلدیہ کراچی کی تاریخ میں اقتدار کی پہلی باقاعدہ تقسیم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم بعض مبصرین کے مطابق اس سے بلدیاتی نظام کے مؤثر کام کرنے پر سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس صورتحال کے بعد کے ایم سی کی قائم کردہ بعض کمیٹیاں غیر فعال ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ سلمان مراد بلوچ نے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے رابطہ کر کے میئر کراچی کی رخصتی روکنے کی سفارش کی، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی۔ ملاقات ون ٹو ون تھی، جس میں کسی اور شخص کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران کے ایم سی میں انتظامی معاملات، بعض افسران کی کارکردگی اور مبینہ بدانتظامی سے متعلق سخت گفتگو بھی ہوئی، جسے مرتضیٰ وہاب نے تحمل سے سنا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ طویل گفتگو کے بعد ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جبکہ بعد ازاں پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور صوبائی وزیر بلدیات کے نمائندوں کو بھی اجلاس میں شامل کیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ میئر کراچی نے بعض انتظامی غلطیوں کا اعتراف کیا اور یقین دہانی کرائی کہ کرپشن سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق لینڈ ڈپارٹمنٹ اور چند اہم محکمے فی الحال میئر کراچی کے پاس رہیں گے، جبکہ بعض افسران کو عہدوں سے ہٹانے اور تبادلوں کا بھی امکان ہے۔ صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کی جانب سے کے ایم سی میں انکوائریز اور انتظامی تبدیلیوں کے عمل کو تیز کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
دوسری جانب سیاسی محاذ پر جماعت اسلامی 14 فروری کو میئر کراچی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کی تیاری کر رہی ہے، جس میں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے بعض اراکین کی حمایت کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں بلدیہ کراچی کی سیاست اور انتظامی ڈھانچے میں مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔


