کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)جمعیت علماء پاکستان (جے یو پی) کی مرکزی کابینہ کا اہم اجلاس زوم کے ذریعے ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں ملکی اور بین الاقوامی صورتحال، اسلام مخالف قوانین، اتحاد اہلسنت، یوم تاسیس اور رکنیت سازی مہم سمیت متعدد امور زیر غور آئے۔
ڈاکٹر زبیر نے خطاب میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ فلسطینی عوام اور حماس کی قربانیوں کے منافی ہے اور جے یو پی اس کی ہر حال میں مخالفت کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کو جنگ کی دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ غزہ میں اسرائیلی مظالم جاری ہیں، جس پر عالمی سطح پر آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے ملک میں داخلی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں دھماکوں اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بدامنی نے پاکستان کی صورتحال کو متاثر کیا ہے۔ ڈاکٹر زبیر نے ملک کی تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں سے اتحاد قائم کر کے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ داخلی و خارجی مسائل میں بہتری لائی جا سکے۔
ڈاکٹر زبیر نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خلاف شریعت قوانین، جیسے کہ کم عمر شادی پر پابندی اور حقوق نسواں بل منظور کیے گئے ہیں، جنہیں فوری واپس لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے شراب خانوں کی اجازت، فحاشی اور بے حیائی کے بڑھتے رجحانات پر بھی سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے ملک میں کرپشن، بے روزگاری، غربت اور اقتصادی مشکلات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کی پالیسیوں پر فوری نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
مرکزی سیکریٹری جنرل سید صفدر شاہ گیلانی نے اعلان کیا کہ 28 مارچ کو جے یو پی کا ملک گیر یوم تاسیس منایا جائے گا اور “پاکستان بچاؤ، نظام مصطفےٰ لاؤ” تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ اس موقع پر ضلعی اور صوبائی تنظیمات عوامی اجتماعات، جلسے، کانفرنسز اور سیمینارز منعقد کریں گی، جبکہ مرکزی سطح پر یوم تاسیس کا اجتماع ملتان میں ہوگا۔
اجلاس میں جے یو پی کے رہنماؤں نے ملک میں اسلامی تعلیمات اور معاشرتی اصولوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنے اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے صورتحال میں بہتری لانے کے لیے متفقہ لائحہ عمل اپنانے پر زور دیا۔


