56

صوبائی کابینہ کا اجلاس، انڈس ڈیلٹا کے تحفظ اور انتظامی اصلاحات کی منظوری

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ماحولیاتی تحفظ، عدالتی اصلاحات اور امن و امان سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سندھ حکومت نے انڈس ڈیلٹا کے ماحولیاتی تحفظ اور سمندری جنگلات میں اضافے کے لیے تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے مزید 4 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے کو ’’محفوظ جنگلات‘‘ قرار دینے کی منظوری دے دی۔

کابینہ کو محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کی جانب سے انڈس ڈیلٹا کے ماحولیاتی تحفظ سے متعلق تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی، جس کے بعد ضلع سجاول کے 163,902 ہیکٹرز یعنی 405,002 ایکڑ پر مشتمل ساحلی (Intertidal) اراضی کو محفوظ جنگلات قرار دینے کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق اس وقت انڈس ڈیلٹا کے 566,298 ہیکٹرز رقبے کو پہلے ہی محفوظ جنگلات کا درجہ دیا جا چکا ہے، جن میں ضلع ٹھٹھہ کا 241,374 ہیکٹر اور ضلع سجاول کا 324,924 ہیکٹر شامل ہے۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے کے مجموعی رقبے کا صرف 10 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے، جبکہ ماحولیاتی استحکام اور حیاتیاتی تنوع کے عالمی اہداف کے حصول کے لیے اس شرح کو 25 فیصد تک بڑھانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساحلی جنگلات سیلاب، سمندری طوفانوں اور لہروں کے خلاف قدرتی ڈھال کا کردار ادا کرتے ہیں اور یہ عام جنگلات کے مقابلے میں 3 سے 5 گنا زیادہ کاربن محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جسے ’’بلیو کاربن‘‘ کہا جاتا ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ساحلی جنگلات مچھلیوں اور دیگر سمندری حیات کی افزائش گاہیں ہیں، جن سے مقامی آبادی کے روزگار کو تحفظ ملے گا، جبکہ یہ جنگلات سمندر تک پہنچنے والے زہریلے مواد اور آلودگی کو روک کر پانی کے معیار کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔

کنزیومر کورٹس کو ٹریفک کورٹس بنانے کا فیصلہ

کابینہ اجلاس میں صوبے بھر کی کنزیومر کورٹس کو ٹریفک کورٹس قرار دینے کی بھی منظوری دی گئی۔ ای۔چالان کے فوری فیصلوں کے لیے کنزیومر کورٹس کو ٹریفک کورٹس کے اختیارات دیے جائیں گے، جس کا اطلاق صوبائی موٹر وہیکلز ترمیمی ایکٹ 2025 میں نئی دفعہ اے 121 کے تحت ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ سے مشاورت کے بعد ہر ضلع کی کنزیومر کورٹ کو ٹریفک کورٹ کا اختیار دیا جائے گا، جس سے ٹریفک جرائم کے تیز رفتار ٹرائل ممکن ہوں گے اور نئی عدالتی عمارتوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔

نئے تھانوں اور پولیس پوسٹس کی منظوری

اجلاس میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح اور آبادی میں تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامی اصلاحات کی بھی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے گرهور شریف (میرپورخاص) کی پولیس پوسٹ کو مکمل پولیس اسٹیشن بنانے کی منظوری دے دی، جو فلنڈیوں تھانے سے 22 کلومیٹر دور ہونے کے باعث اپ گریڈ کی گئی۔

اسی طرح پولیس اسٹیشن ملاک کو پولیس پوسٹ میں تبدیل کرنے کی منظوری دی گئی، جو اب پولیس اسٹیشن کورائی (سب ڈویژن مورو، نوشہرو فیروز) کے انتظامی کنٹرول میں کام کرے گی۔ صالح پور کچو، ملکانی سمیت پانچ دیہات کو بھی پولیس اسٹیشن کورائی کے دائرہ اختیار میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں