کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)کورنگی میں ڈسٹرکٹ چیئرمین نعیم احمد شیخ کی جانب سے پھولوں کی نمائش اور میلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں موٹر سائیکلیں، عمرے کے ٹکٹ، لاکھوں روپے کے انعامات اور گلوکاروں کی محفلیں شامل تھیں۔ تاہم مقامی عوام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صرف نمائش کے مترادف ہیں اور حقیقی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔
شہریوں نے بتایا کہ کورنگی میں آج بھی بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں:
صاف پانی کی کمی
گیس کی باقاعدہ فراہمی نہ ہونا
بجلی کا تسلسل نہ ہونا
ٹوٹی سڑکوں کی مرمت نہ ہونا
گٹروں کے بہتے پانی کا حل نہ ہونا
اسپتالوں میں سہولیات کا فقدان
اسکولوں میں معیار کی کمی
عوامی حلقوں کا سوال ہے کہ اگر لاکھوں روپے پھولوں کی نمائش اور بینرز پر خرچ کیے جا سکتے ہیں تو وہی رقم یتیم بچوں کے رمضان راشن، بیواؤں کی کفالت، غریب بچوں کے عید کے کپڑے، روزگار کے مواقع، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے لیے کیوں نہیں خرچ کی جاتی؟
شہریوں کا کہنا ہے کہ اسٹیج پر گلوکاروں کی محفل، موٹر سائیکل کے انعامات یا پھولوں کی خوشبو سے نالیوں کا پانی صاف نہیں ہوگا اور نہ ہی عوام کے گھروں میں چولہے جلیں گے۔
کورنگی کے عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نمائشی تقریبات کے بجائے حقیقی کام، بنیادی سہولیات اور انصاف فراہم کیا جائے تاکہ نعرے “روٹی، کپڑا اور مکان” حقیقت میں پورے ہوں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سچ کڑوا ہو سکتا ہے، مگر پھول اور نمائش عوام کی مشکلات چھپا نہیں سکتے، اور کورنگی کے لوگ اب حقیقی ترقی اور سہولیات کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔


