73

کچا بڑا مسئلہ بن چکا تھا، ڈاکوؤں کے پاس ہم سے بہتر اسلحہ تھا: آئی جی سندھ

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) انسپکٹر جنرل پولیس سندھ نے کہا ہے کہ کچا کا علاقہ ایک بڑا سیکیورٹی مسئلہ بن چکا تھا جہاں اغوا برائے تاوان کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا تھا۔ آئی جی سندھ کے مطابق ڈاکو مختلف حربے استعمال کر کے شہریوں کو کچے کے علاقوں میں بلا کر قید کر لیتے تھے۔

آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ ہنی ٹریپ کے ذریعے، سستی اشیاء فروخت کرنے کا لالچ دے کر یا خاتون کی آواز میں بات کر کے لوگوں کو وہاں بلایا جاتا تھا، جہاں انہیں اغوا کر لیا جاتا۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں صرف سندھ تک محدود نہیں تھیں بلکہ کے پی کے، بلوچستان اور پنجاب سے بھی شہریوں کو بلا کر اغوا کیا جاتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاکو سرکاری زمینوں پر قبضہ کر کے انہیں اپنے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرتے تھے اور اغوا سے حاصل ہونے والی رقوم سے جدید اسلحہ خریدا جاتا تھا۔ ابتدا میں ان کے پاس صرف اے کے 47 تھیں، تاہم بعد ازاں ان کے پاس بھاری اور جنگی ہتھیار آ گئے جو پولیس کے لیے بڑا چیلنج بن گئے۔

آئی جی سندھ کے مطابق بعض اوقات ڈاکوؤں کے پاس ایسا اسلحہ ہوتا تھا جو پولیس کی اے پی سی کو بھی نقصان پہنچا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکوؤں کے ویڈیو بیانات سے ان کے حوصلے اور بے خوفی کا اندازہ ہوتا تھا اور وہ مسلسل حکومتی رٹ کو چیلنج کر رہے تھے۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ پولیس کی بھرپور کوشش رہی کہ ان عناصر کو منہ توڑ جواب دیا جائے اور ریاستی رٹ کو ہر صورت قائم رکھا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں