کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)برطانیہ کے ایوانِ بالا (ہاؤس آف لارڈز) کے رکن پال یاو بوٹنگ نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعتماد جمہوریت کی بنیاد ہے جبکہ پارلیمان عوامی نمائندگی، جمہوری جواز اور ترقی کا مرکزی ادارہ ہوتے ہیں۔
پال یاو بوٹنگ نے کہا کہ ہم سب یہاں اس لیے جمع ہیں کیونکہ پارلیمان واقعی اہم ہیں اور عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی حالات، جن میں ماحولیاتی بحران، جیو پولیٹیکل کشیدگیاں، تجارتی جنگیں، بجٹ کی پابندیاں اور عوامی بداعتمادی شامل ہیں، پارلیمان کے کردار کو مزید اہم بنا دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بڑی طاقتوں کے تصادم میں چھوٹے اور کمزور ممالک زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اس لیے لچک (Resilience) ناگزیر ہے، اور اس ضمن میں کامن ویلتھ ایک مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔
پال یاو بوٹنگ کا کہنا تھا کہ پارلیمان کو صرف تقاریر تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عملی نتائج اور مؤثر ڈیلیوری پر توجہ دینی چاہیے، خاص طور پر 2030 کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے حصول کے لیے۔ انہوں نے صحت، تعلیم، صاف پانی و صفائی، عدم مساوات میں کمی، پائیدار شہروں کی ترقی، موسمیاتی اقدامات اور زمینی و آبی حیات کے تحفظ پر خصوصی توجہ دینے کی سفارش کی۔
انہوں نے پارلیمانی کمیٹیوں کو مضبوط بنانے، شفاف نگرانی کے نظام اور حکومتی کارکردگی کو یقینی بنانے کو انتہائی ضروری قرار دیا۔ اس موقع پر انہوں نے مصنوعی ذہانت (AI) اور بلاک چین کو بدعنوانی کے خاتمے، شفافیت بڑھانے، عوامی مالیات اور سرکاری خدمات میں اعتماد بحال کرنے کے مؤثر ذرائع قرار دیا۔
پال یاو بوٹنگ نے نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے نوجوانوں کو پارلیمانی عمل سے جوڑنے پر زور دیا تاکہ ڈیجیٹل خلیج کم کی جا سکے۔ انہوں نے صاف پانی اور صفائی (SDG 6) کو ذاتی، سماجی اور سیاسی سطح پر نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خصوصاً خواتین، بچیوں کی تعلیم اور صنفی مساوات کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مسائل کا مؤثر حل نہ صرف جمہوریت کو مضبوط کرتا ہے بلکہ انتخابی کامیابی سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ خطاب کے اختتام پر انہوں نے اتحاد، عملی اقدامات اور کامن ویلتھ کے باہمی اشتراک کو فروغ دینے کی اپیل کی اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اتحاد کی شمع تاریک راستوں کو روشن کرتی ہے۔


