59

دروشُم بلوچ (حوا بلوچ) سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور دعوے

کوئٹہ (ایچ آراین ڈبلیو) سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مختلف پوسٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ **حوا بلوچ**، جنہیں **دروشُم بلوچ** کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس وقت **فرنٹیئر کور (ایف سی)** کی تحویل میں ہیں۔

زیرِ گردش ایک ویڈیو میں **دروشُم بلوچ** اپنے بیان میں کہتی ہیں کہ وہ **یونیورسٹی آف بلوچستان** میں کام کرتی تھیں۔
ان کے مطابق **بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب** نے انہیں بلیک میل کیا۔ ویڈیو بیان میں دروشُم بلوچ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے سیکیورٹی کیمروں کے ذریعے ان کی **نجی ویڈیوز ریکارڈ** کی گئیں اور انہیں دھمکی دی گئی کہ اگر انہوں نے **بی ایل اے** کے لیے کام نہ کیا تو وہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کر دی جائیں گی۔

دروشُم بلوچ نے مزید کہا کہ “میں بلوچ قوم سے شرمندہ ہوں، میرے ساتھ یہاں اچھا سلوک کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے الزام عائد کیا کہ **بی ایل اے** کے کارکن **افغانستان اور ایران کے کیمپس میں آئس کا نشہ** کرواتے اور ویڈیوز بناتے تھے۔

📢 **سچ پر مبنی اور ذمہ دار صحافت کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔**
ہمیں سپورٹ کریں: 👉 [hrnww.com/support-us](https://hrnww.com/support-us)

اپنا تبصرہ بھیجیں