66

انصاف کی ہار، مظلوم زیر بار، گورنرسندھ نے مونس علوی کو ہراسانی کیس سے بری کردیا

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) صوبائی محتسب سندھ نے دفتر کے اندر کام کے دوران ایک خاتون ملازم کو ہراساں کرنے کے الزام میں **کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مونس علوی** کو عہدے سے برطرف کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ان پر **25 لاکھ روپے جرمانہ** بھی عائد کیا گیا تھا۔ صوبائی محتسب کے مطابق شکایت کنندہ خاتون کے الزامات ثابت ہوئے تھے اور یہ فیصلہ خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کے قانون کے تحت سنایا گیا۔

تاہم مونس علوی نے اس فیصلے کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور انہیں قانونی تقاضوں کے مطابق صفائی کا پورا موقع نہیں دیا گیا۔ ہائیکورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد **صوبائی محتسب کے فیصلے پر حکمِ امتناع جاری کر دیا**، جس کے باعث برطرفی کا حکم عارضی طور پر معطل ہو گیا۔

بعد ازاں یہ معاملہ گورنر سندھ کے پاس اپیل کی صورت میں پہنچا، جہاں تمام ریکارڈ، شواہد اور فریقین کے مؤقف کا جائزہ لیا گیا۔ گورنر سندھ **کامران ٹیسوری** نے تفصیلی سماعت کے بعد صوبائی محتسب کے فیصلے کو **کالعدم قرار دیتے ہوئے مونس علوی کو بے قصور قرار دے دیا** اور انہیں مکمل **کلین چٹ** جاری کر دی۔

اس فیصلے کے بعد یہ کیس ایک بار پھر پاکستان میں ہراسانی سے متعلق قوانین، ان کے نفاذ، اور اپیل کے نظام پر ایک اہم بحث بن چکا ہے، جس پر مختلف حلقوں میں شدید ردِعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں