56

امیر جماعت اسلامی کراچی کی شدید تنقید، مرتضیٰ وہاب کو ذمہ دار قرار دے دیا

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے گل پلازہ سانحے کا ذمہ دار میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحے کو دو ہفتے گزرنے کے باوجود متاثرہ خاندانوں کو اپنے پیاروں کی باقیات تاحال مکمل طور پر فراہم نہیں کی گئیں، جو انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔

منعم ظفر کا کہنا تھا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گل پلازہ سانحے میں 87 افراد شہید ہوئے، تاہم اب تک صرف 42 افراد کی باقیات ورثا کے حوالے کی جا سکی ہیں، جبکہ باقی خاندان آج بھی اپنے پیاروں کے انتظار میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں مسلسل سانحات ہو رہے ہیں اور متعلقہ محکمے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ حفاظتی اقدامات جیسے مناسب ڈریس، کٹس اور دیگر سہولیات موجود نہیں تھیں۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے پی ڈی ایم اے، ایم ڈی ایم اے، سول ڈیفنس اور ریسکیو 1122 پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام ادارے مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور بحران کے وقت کہیں نظر نہیں آتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں 84 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا گیا، پھر کہا گیا کہ کے ایم سی 46 ارب روپے کے ترقیاتی کام کرے گی، جبکہ تین روز قبل 21 ارب روپے کے ڈویلپمنٹ فنڈ کا ذکر کیا گیا، مگر عملی طور پر شہر میں کوئی ترقیاتی کام نظر نہیں آ رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر وفاقی حکومت کے فنڈز کو بھی شامل کر لیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ کراچی کو وسائل کی کمی نہیں، مسئلہ صرف یہ ہے کہ یہ پیسہ آخر کہاں خرچ ہو رہا ہے۔ ان کے بقول سب کچھ کاغذی دعوؤں تک محدود ہے اور عوام کو مسلسل اعلانات کے ذریعے گمراہ کیا جا رہا ہے۔

منعم ظفر نے کریم آباد انڈر پاس منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی تکمیل کی تاریخیں بار بار تبدیل کی جا رہی ہیں، جبکہ حکومت محض اعلانات پر اعلانات کر کے شہریوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گل پلازہ سانحے کے ذمہ داروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے اور کراچی کے شہریوں کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں