56

عمران خان کی بہنوں سے ملاقات پر پابندی، پی ٹی آئی کی شدید تنقید

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)پاکستان تحریک انصاف کراچی کی سیکریٹری اطلاعات فوزیہ صدیقی نے عمران خان کی بہنوں سے تاحال ملاقات نہ ہونے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود عمران خان سے اہلِ خانہ کی ملاقات روکی جا رہی ہے، جو آئین اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

فوزیہ صدیقی نے کہا کہ اڈیالہ جیل انتظامیہ کا رویہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ عمران خان کی آنکھ میں انفیکشن کی اطلاعات تشویشناک ہیں، مگر انہیں علاج تک مناسب رسائی نہیں دی جا رہی، جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شوکت خانم ہسپتال کی میڈیکل ٹیم کو فوری طور پر عمران خان تک رسائی دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے اہلِ خانہ کو ان کی خیریت سے آگاہ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، جبکہ ان کی صحت سے متعلق غیر یقینی صورتحال عوامی تشویش میں اضافہ کر رہی ہے۔ فوزیہ صدیقی نے کہا کہ صرف 20 منٹ کی ملاقات میں عمران خان کی صحت سے متعلق حقائق جاننا ممکن نہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سب کچھ ٹھیک ہے تو حکومت باضابطہ میڈیکل رپورٹ کیوں جاری نہیں کرتی؟ انہوں نے مزید کہا کہ جیل کے اندر سے خبریں لیک ہو سکتی ہیں، مگر عمران خان کے ذاتی معالج کو معائنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی؟

فوزیہ صدیقی نے عمران خان کے اہلِ خانہ کو جیل کے باہر ہراساں کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ علیمہ خان، عظمیٰ خان، نورین خان اور دیگر خواتین کے ساتھ پولیس کا رویہ شرمناک ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ سردی کے موسم میں عمران خان کی بہنوں کو جیل کے باہر روکنا کس قانون کے تحت ہے؟

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ یہ معاملہ صرف عمران خان کا نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کا ہے۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور جیل بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں رول آف لا پر سنگین سوالات کھڑے ہو چکے ہیں اور عدالتی احکامات پر عمل نہ ہونا ایک خطرناک روایت قائم کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پہلے عدلیہ کا خوف موجود تھا، اب اس کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ فوزیہ صدیقی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سبز اور سرخ رنگ سے ڈر ظاہر کرتا ہے کہ ملک میں جمہوریت کس حال میں ہے۔

فوزیہ صدیقی نے واضح کیا کہ عمران خان نے کوئی ڈیل نہیں کی اور یہی بات ان کا جرم بنا دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک محب وطن لیڈر کو تنہا کرنا مسئلے کا حل نہیں اور قوم کو سوچنا ہوگا، کیونکہ آج کی خاموشی کل سب کو مہنگی پڑ سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں