کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں آن لائن پروکیورمنٹ کے بجائے مینوئل پروکیورمنٹ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔
حکومتِ سندھ کی جانب سے عدالت کو آن لائن پروکیورمنٹ کے نظام کے نفاذ کی یقین دہانی کرائی گئی، جس کے بعد **بلال بھٹو کنسٹرکشن کمپنی** نے اپنی درخواست واپس لے لی۔
درخواست گزار کے وکیل **حسنین چوہان ایڈووکیٹ** نے مؤقف اختیار کیا کہ **پولیس لائن سکھر** کے ٹھیکے میں بدعنوانی کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے آن لائن ٹھیکوں کا نظام متعارف کرایا گیا تھا، مگر اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جارہی ہے۔
عدالت میں دورانِ سماعت ایک ٹھیکیدار نے انکشاف کیا کہ **نیب** کی کارروائی سے بچنے کے لیے ٹھیکوں کی مالیت جان بوجھ کر **50 کروڑ روپے سے کم** رکھی جاتی ہے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ انہیں ٹھیکے کے عمل سے غیر قانونی طریقے سے باہر رکھنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں۔
عدالت نے سرکاری وکیل کے بیان اور حکومت کی یقین دہانی کے بعد **درخواست واپس لینے پر کیس نمٹا دیا**۔


