31

سر سید یونیورسٹی میں بین الجامعہ اسپیڈ مائنڈ ایگزیکیوشن مقابلہ (SMEC’26) اختتام پذیر

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سر سید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زیرِ اہتمام بین الجامعہ اسپیڈ مائنڈ ایگزیکیوشن مقابلہ (SMEC’26) کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی، جس کا مقصد باصلاحیت طلبہ کو مسابقتی ماحول میں اپنی ذہنی اور فکری صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرنا تھا۔ کراچی کی مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات نے مقابلوں میں بھرپور شرکت کی۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی سر سید یونیورسٹی کے چانسلر محمد اکبر علی خان تھے جبکہ برانڈ فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکیٹو شیخ راشد عالم نے مہمانِ اعزازی کے طور پر شرکت کی۔ اس موقع پر سر سید یونیورسٹی کو برانڈ آف دی ایئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چانسلر محمد اکبر علی خان نے کہا کہ اسپیڈ مائنڈ ایگزیکیوشن مقابلہ نہ صرف طلبہ کی ذہنی و فکری صلاحیتوں کے اظہار کا ذریعہ ہے بلکہ تخلیقی سوچ، مہارت اور باہمی تعاون کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیزی سے بدلتی دنیا میں انوویشن اور مہارت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے اور SMEC نوجوانوں کو صحت مند مقابلے کے ذریعے سیکھنے اور آگے بڑھنے کا بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

برانڈ فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکیٹو شیخ راشد عالم نے کہا کہ صرف علم حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ مسائل کے حل کے لیے علم کا درست اور بروقت استعمال ہی اصل کامیابی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو نالج اکانومی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے پر زور دیا۔

ٹرینڈ مائیکرو کے چیف ایگزیکیٹو عمیر شیخ نے کہا کہ SMEC طلبہ کو اپنی صلاحیتیں دکھانے اور جانچنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے سائبر سیکیورٹی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک ملازمت نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری ہے۔

شعبہ کمپیوٹر سائنس و آئی ٹی کے چیئرپرسن ڈاکٹر کاشف شیخ نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ چیلنجز کو سیکھنے اور ترقی کے مواقع کے طور پر دیکھیں اور کہا کہ ایسے ایونٹس مختلف جامعات کے طلبہ کے درمیان جدت اور تعاون کے جذبے کو فروغ دیتے ہیں۔

اسمیک کی سربراہ عائشہ عروج نے گزشتہ دہائی میں مقابلے کی کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔ تقریب کے اختتام پر مختلف کیٹیگریز میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو شیلڈز پیش کی گئیں۔

تقریب میں مسز ارم اکبر علی، عادل عسکری، ڈاکٹر جعفر نذیر عثمانی، محسن کاظم، شاہد جمیل اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں