67

نیو کراچی ٹاون سیکٹر 5.J میں 14گلیوں میں پیور بلاک کی تنصیب اور لا ئیٹس کا کام مکمل

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)نیو کراچی ٹاؤن کے سیکٹر 5.Jمیں 14 گلیوں میں پیور بلاک کی تنصیب اور لا ئیٹسکا کام مکمل کر لیا گیا۔ منصوبے کا باضابطہ افتتاح چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے ایک پروقار تقریب میں کیا۔ اس موقع پر وائس چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن شعیب بن ظہیر، یوسی چیئرمین راجہ عطاالرحمن، وائس یوسی چیئرمین توقیر خان وارڈ کونسلرز نثار احمد اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین محمد یوسف نے کہا کہ سیکٹر 5.Jمیں بلدیاتی سہولیات کی فراہمی ان کی اولین ترجیح رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ گزشتہ کئی دہائیوں سے نظرانداز چلا آ رہا تھا، سیوریج اور پانی کے مسائل نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی تھی اور گزشتہ 27 برسوں میں کسی بھی سیاسی جماعت نے یہاں کوئی مؤثر ترقیاتی کام نہیں کرایا۔انہوں نے کہا کہ منتخب ہونے کے فوراً بعد انہوں نے سیکٹر 5.Jکے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ گلیوں کو پختہ کیا جائے گا اور بنیادی مسائل حل کیے جائیں گے، مگر ابتدا میں سب سے بڑا مسئلہ سیوریج اور پانی کا تھا۔ چیئرمین محمد یوسف کے مطابق بارش کے بعد لاڑکانہ بیکری سے ناصرہ اسکول تک ہفتوں پانی کھڑا رہتا تھا، نکاس آب کا کوئی راستہ موجود نہیں تھا کیونکہ سیکٹر 5.J کی مرکزی 36 انچ سیوریج لائن بیٹھ چکی تھی۔محمد یوسف نے بتایا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن سے رابطہ کیا گیا، مگر فنڈز کی کمی کا جواز بنا کر ہاتھ کھڑے کر دیے گئے۔ بعد ازاں واٹر کارپوریشن کے تکنیکی عملے نے نشاندہی کی کہ اگر قاسم اسٹیڈیم سے سیکٹر 5.Jتک 36 انچ کی نئی سیوریج لائن ڈال دی جائے تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ عوامی تکالیف کو مدنظر رکھتے ہوئے نیو کراچی ٹاؤن نے اپنے فنڈز سے یہ لائن بچھائی، جس کے بعد علاقے کے سیوریج کے دیرینہ مسائل بڑی حد تک حل ہو گئے۔چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن نے کہا کہ پہلے مرحلے میں سیکٹر 5.J میں 100 گلیوں میں پیور بلاک لگانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جن میں سے اب تک 14 گلیوں کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ باقی گلیوں میں کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف آغاز ہے، آئندہ مرحلے میں لاڑکانہ بیکری سے ناصرہ اسکول تک سڑک کی تعمیر اور اس کے بعد اقصیٰ پارک کی تکمیل بھی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ میں ترقیاتی کاموں میں تاخیر کی وجہ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی ناقص کارکردگی رہی، جن کے ذمے کے کئی کام نیو کراچی ٹاؤن کو عوامی مفاد میں خود کرانے پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ واٹر کارپوریشن کا سالانہ بجٹ 47 ارب روپے ہے، مگر اس کے باوجود ادارہ ایک گٹر کا ڈھکن فراہم کرنے سے قاصر ہے، جبکہ نیو کراچی ٹاؤن نے اپنے محدود وسائل سے سیوریج اور پانی کی لائنوں پر 9 کروڑ روپے خرچ کیے، حالانکہ یہ ٹاؤن کی ذمہ داری نہیں تھی۔چیئرمین محمد یوسف نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ KMCکا بجٹ 55 ارب روپے ہے اور شہر کی 106 سڑکیں اس کی ذمہ داری ہیں۔ اگر دعویٰ کیا جاتا ہے کہ 60 دن میں 106 سڑکیں تعمیر کر دی جائیں گی، تو 90 دن گزرنے کے باوجود یہ بتایا جائے کہ اب تک کتنی سڑکیں مکمل ہوئیں؟ انہوں نے کہا کہ کراچی کی بیشتر سڑکیں آج بھی موہنجو دڑو کا منظر پیش کر رہی ہیں، جن میں نیو کراچی ٹاؤن کی شفیق موڑ تا اللہ والی چورنگی سڑک بھی شامل ہے، جسے ڈھائی سال گزرنے کے باوجود تعمیر نہیں کیا جا سکا۔انہوں نے بتایا کہ عوامی مشکلات کو دیکھتے ہوئے نیو کراچی ٹاؤن نے اپنے فنڈز سے اس سڑک کے ایک حصے کی تعمیر کر دی ہے، تاہم پورا منصوبہ ٹاؤن کی مالی استطاعت سے باہر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ K.M.Cشہر کی بڑی سڑکوں کی تعمیر پر فوری توجہ دے۔آخر میں چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن نے اعلان کیا کہ گزشتہ سال کراچی میں کھلے مین ہولز کے باعث 27 بچے جان کی بازی ہار گئے۔ بچوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے 14 جنوری بروز بدھ، پاور ہاؤس چورنگی پر دوپہر ڈھائی بجے سے رات 10 بجے تک شناختی کارڈ اور مین ہول کی تصویر دکھانے پر نیو کراچی ٹاؤن کی جانب سے مفت ڈھکن فراہم کیے جائیں گے۔اس موقع پر وائس چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن شعیب بن ظہیر نے کہا کہ منتخب ہونے کے بعد جب انہوں نے سیکٹر 5.J کا دورہ کیا تو بلدیاتی مسائل اپنی انتہا پر تھے، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر اور ابلتے گٹر معمول بن چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں جماعت اسلامی کی ٹیم نے عوام سے کیے گئے وعدے پورے کیے ہیں، جس پر علاقے کے عوام مطمئن اور خوش ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں