63

سلیم میمن کی بجلی کے بنیادی نرخوں میں حالیہ اضافے کی سخت مذمت

حیدرآباد (ایچ آراین ڈبلیو) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر سلیم میمن نے بجلی کے بنیادی نرخوں میں حالیہ اضافے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی یونٹ اضافے سے صنعتی پیداواری لاگت میں براہِ راست اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں مقامی صنعت غیر مسابقتی ہوگی اور برآمدات، روزگار اور معاشی سرگرمی شدید متاثر ہوں گی۔صدرچیمبر نے کہا کہ پاکستان میں صنعتی صارفین کو بجلی تقریباً 13.5 سینٹ فی یونٹ ادا کرنا پڑتی ہے، جو تاجکستان (2-3 سینٹ)، بھارت (6-7 سینٹ)، بنگلہ دیش (8-9 سینٹ) اور سری لنکا (9-12 سینٹ) سے کہیں زیادہ ہے۔ایسے میں پاکستانی صنعتیں تاجکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، انڈونیشیا اور دیگر علاقائی معیشتوں کے ساتھ قیمت کی بنیاد پر مقابلہ نہیں کرسکتیں جبکہ یورپی ممالک تو بہت دور کی بات ہے۔صدر نے کہا کہ بجلی کی مہنگائی صنعتی پیداواری لاگت کا بڑا حصہ ہے اور اس کا براہِ راست اثر برآمدات، منافع، سرمایہ کاری اور روزگار پر پڑتا ہے۔اور یہ فرق بھی عالمی منڈی میں مصنوعات کو غیر منافع بخش بنا دیتا ہے اور یوں ٹیکسٹائل، سرامکس، آٹو پارٹس، فوڈ پراسیسنگ اور دیگر شعبوں کی برآمدی پوزیشن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔انہوں نے کیپیسٹی چارجز اور آئی پی پیز (IPP) کے معاہدوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اب تک صرف چند IPPs کے ساتھ معاہدے محدودکیے ہیں، جس سے تقریباً 3600 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔ صدر نے کہا کہ اگر یہ معاہدے اصولی بنیادوں پر تمام IPPs کے ساتھ کئے جائیں، موجودہ معاہدوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے، تو ہزاروں ارب روپے کی بچت ممکن ہے، جس سے بجلی کی قیمت میں خاطر خواہ کمی کی جاسکتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی تمام صنعتیں اور کاروباری طبقات اپنی پیداواری ضرورت کے لیے ونڈ اور سولر توانائی کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں، کیونکہ موجودہ بجلی کی قیمتوں پر گرڈ سے بجلی پر انحصار کرنا ناقابل برداشت ہو گیا ہے۔ اگر بجلی کے نرخ کم کر دیے جائیں تو صنعتیں اپنی سرمایہ کاری دیگر شعبوں میں لگائیں گی اور معیشت کے ترقیاتی پہیے کو سہارا ملے گا۔صدرچیمبر سلیم میمن نے مطالبہ کیا کہ صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ خطے کے دیگر ممالک کے برابر کیے جائیں،اس کے ساتھ کراس سبسڈی کے غیر منصفانہ نظام کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے،اور توانائی کی پالیسی کی تشکیل میں تمام اسٹیک ہولڈرز خصوصاً کاروباری طبقے کو اعتماد میں لیا جائے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان میں صنعتی ترقی رک جائے گی، ملک معاشی مشکلات کی طرف دھکیل دیا جائے گا، اور برآمدات متاثر ہوں گی۔ صدرچیمبر نے وزیراعظم، وفاقی وزیر توانائی اور نیپرا سے پرزور اپیل کی کہ وہ فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی کریں اور صنعت دوست اور عوامی مفاد میں توانائی کی پالیسی اپنائیں تاکہ روزگار، سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں