55

صارفین 22 کھرب روپے سالانہ کی گھوسٹ بجلی کا بوجھ کیوں اٹھائیں؟الطاف شکور

کراچی ( ایچ آراین ڈبلیو ) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام پر 22 کھرب روپے سالانہ کی ”گھوسٹ بجلی“ کا ناقابلِ برداشت بوجھ لادا جا رہا ہے۔ یہ وہ بجلی ہے جو نہ پیدا ہوتی ہے، نہ استعمال ہوتی ہے مگر اس کے بل عوام کو بھرنے پڑتے ہیں۔ یہ سب کچھ نام نہاد کیپیسٹی چارجز کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں گھوسٹ اسکولوں، گھوسٹ اسپتالوں اور گھوسٹ سرکاری ملازمین کے ساتھ اب گھوسٹ بجلی بھی نمودار ہو چکی ہے۔ اس مسلسل لوٹ مار کی پشت پناہی ریگولیٹر نیپرا خود کر رہا ہے۔ نیپرا عوام کی محافظ نہیں رہی، بلکہ آئی پی پیز کے مفادات کی محافظ بن چکی ہے۔ آئی پی پیز عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں اور مہنگی بجلی نے صنعت سمیت پوری معیشت کو مفلوج کر دیا ہے۔ یہ مسئلہ اب قومی سلامتی تک جا پہنچا ہے کیونکہ غیر معمولی مہنگائی ملک میں کسی بھی وقت بڑے عوامی احتجاج کو جنم دے سکتی ہے۔ الطاف شکور نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مطالبہ کیا کہ اس خطرناک صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے۔ گھوسٹ بجلی کے نظام کو ختم کر کے بجلی کی منصفانہ اور پائیدار قیمتیں مقرر کی جائیں۔ ان تمام عناصر کو بے نقاب کر کے جوابدہ بنایا جائے جنہوں نے آئی پی پیز کے حق میں یہ تباہ کن معاہدے منظور کیے۔ گذشتہ روز ہونے والی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ میں گفتگو کرتے ہوئے الطاف شکور نے مزید کہا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بھی واضح کیا ہے کہ نیپرا، نجی بجلی گھروں کا دفاع کرتی ہے جبکہ عوام سے کھپت نہ ہونے والی بجلی کے کھربوں روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ آئی پی پیز سالہا سال سے کسی بھی حقیقی فرانزک آڈٹ سے بچتے رہے ہیں اور اس ناانصافی کا سب سے بڑا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک حقیقت ہے کہ ماضی میں ہمارے ہی حکمرانوں نے ایسے غلط معاہدے منظور کیے جو قومی مفاد کے خلاف تھے اور جنہوں نے آئی پی پیز کو غیر معمولی مالی فائدے پہنچائے۔ یہ پاکستان اور اس کے عوام کے خلاف ایک منظم مالیاتی سازش تھی جس میں ہمارے ہی حکمران شامل تھے۔ہیرا پیری کا سلسلہ بند کیا جائے۔ معاشی طور پر تباہ حال قوم مزید کرپشن کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ پاکستان کو محب وطن حکمران و اداروں کی ضرورت ہے۔ کرپشن کے تمام راستے روکناآزاد و خودمختار عدلیہ سے ہی ممکن ہے۔ احتساب کے عمل کو سیاست اور مفادات سے پاک رکھا جائے#

اپنا تبصرہ بھیجیں