کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ ڈویژن کا اجلاس 09 جنوری 2026 کو سندھ اسمبلی کراچی میں منعقد ہوا جس میں نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک) اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی کارکردگی پر بریفنگ لی گئی۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر رانا محمود الحسن نے کی۔ اجلاس میں سینیٹر فاروق حمید نائیک، سینیٹر عامر ولی الدین چشتی، سینیٹر عبدالقادر خان، سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر عطاءالرحمٰن اور سینیٹر سلیم منڈی والا کے علاوہ ایم پی اے صائمہ آغا، ایم پی اے شاریق جمال اور ایم پی اے رانا شوکت علی نے شرکت کی۔ کمیٹی کو ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور نیسپاک و اوگرا کے اعلیٰ حکام نے بریفنگ دی۔
نیسپاک نے کمیٹی کو سندھ اور بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ بتایا گیا کہ سندھ میں 82 منصوبے جاری ہیں جن کی مجموعی لاگت 1,558 ارب روپے ہے جبکہ بلوچستان میں 17 منصوبے زیرِ تکمیل ہیں۔ کمیٹی نے منصوبوں میں تاخیر اور تعطل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے نیسپاک کو ہدایت کی کہ نگرانی کا نظام بہتر بنایا جائے اور منصوبے بروقت مکمل کیے جائیں۔
اجلاس کے دوران کراچی میں پانی کی شدید قلت اور ٹینکر مافیا کی غیر قانونی اجارہ داری کا بھی نوٹس لیا گیا۔ اراکین نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹینکر مافیا نے شہر کو یرغمال بنا رکھا ہے اور شہریوں کو پانی خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی نے سندھ حکومت کو سفارش کی کہ ٹینکر مافیا کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور کراچی کے موجودہ آبی ڈھانچے کو کے-فور واٹر سپلائی منصوبے کے مطابق بہتر بنایا جائے۔
کمیٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ کے-فور منصوبے کی فنڈنگ اور پیش رفت کا ہر چھ ماہ بعد جائزہ لیا جائے گا۔ مزید یہ تجویز دی گئی کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹیاں برائے خزانہ، منصوبہ بندی اور کابینہ ڈویژن دیگر متعلقہ کمیٹیوں کے ساتھ مل کر وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ صرف کے-فور منصوبے پر ایک مشترکہ اجلاس منعقد کریں۔ اس اجلاس میں میئر کراچی، چیف سیکریٹری سندھ اور ایم ڈی واٹر بورڈ کو بھی مدعو کیا جائے گا۔
اوگرا نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر میں 12 ہزار پیٹرول پمپس کو ڈیجیٹل نظام میں لانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ فیز ون کے تحت صارفین کو ایک موبائل ایپ اور ہینڈ ہیلڈ ڈیوائسز فراہم کی جائیں گی جن کے ذریعے تمام قانونی پیٹرول پمپس کی نشاندہی ممکن ہوگی جبکہ غیر قانونی پمپس کی رپورٹ بھی کی جا سکے گی۔ مزید بتایا گیا کہ 15 ہزار آئل ٹینکرز کو پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) کے تیار کردہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے تحت مانیٹر کیا جائے گا تاکہ غیر قانونی ایندھن کی نقل و حمل کی نشاندہی ہو سکے۔ اگلے مرحلے میں پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل گیجنگ بھی متعارف کرائی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور بدعنوانی کا خاتمہ ہو۔


