کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)جاپان کے کراچی میں تعینات قونصل جنرل ہاتوری ماسارو نے کہا ہے کہ جامعات اور کالجز جیسے تعلیمی ادارے تنوع کو محفوظ کرنے، اس کا مطالعہ کرنے اور فروغ دینے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں، ساتھ ہی یہ ادارے آئندہ نسلوں کو عالمگیریت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے تیار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ موثر ابلاغ، فکری مکالمہ، تعلیمی تعاون اور ثقافتی اشتراک نہایت ضروری ہیں۔ جامعات ایک ایسے دروازے کی حیثیت رکھتی ہیں جہاں نوجوان نئی سوچ سے روشناس ہوتے ہیں، اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے ہیں اور عالمی برادری کے ساتھ مؤثر روابط قائم کرنے کے قابل بنتے ہیں۔تعلیم اور علمی ورثے کی تاریخ کے فروغ کے ساتھ ساتھ ہم ان طلبہ کا خیرمقدم کرتے ہیں جو اس نوعیت کے تجربات رکھتے ہیں۔جاپان کا مقصد صرف علم کا تبادلہ ہی نہیں بلکہ ایسے افراد کی تربیت بھی ہے جو ثقافتوں کے درمیان ایک مضبوط پل بن سکیں اور اپنی سوسائٹی اور عالمی برادری میں مثبت کردار ادا کریں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے دفتررئیس کلیہ فنون وسماجی علوم جامعہ کراچی کے زیر اہتما م اور سینٹر آف ایکسلینس فارویمنز اسٹڈیز ،شعبہ ابلاغ عامہ،شعبہ سیاسیات اور لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس کے اشتراک سے چائنیزٹیچرزمیموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرن بعنوان: ” عالمگیریت اور ثقافتی تنوع”سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ہاتوری ماسارو نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ جاپان کا تجربہ، جہاں روایت اور جدت ایک ساتھ پروان چڑھتی ہیں، اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمگیریت ایک مسلسل اور ارتقائی عمل ہے۔ان عالمی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے صرف معاشی اور تکنیکی اقدامات کافی نہیں بلکہ سماجی شمولیت اور مشترکہ اقدار کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کوششیں بھی ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جاپان کے تجربے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عالمگیریت کسی ایک طے شدہ راستے پر نہیں چلتی بلکہ ہر معاشرہ اپنی تاریخ، ترجیحات اور سماجی اقدار کے مطابق عالمی اثرات کا جواب دیتا ہے۔آخر میں، قونصل جنرل نے منتظمین اور شرکاء کو بامقصد مکالمے کے فروغ پر خراجِ تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ اس کانفرنس سے نتیجہ خیز اور تعمیری گفتگو سامنے آئے گی۔
کونسل جنرل نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمگیریت (گلوبلائزیشن) ہمارے شعبے پر اثر انداز ہونے والی سب سے اہم اور فیصلہ کن قوتوں میں سے ایک ہے۔ اس نے خیالات، ٹیکنالوجیز اور علم کے تبادلے کو مزید قریب، جامع اور نمائندہ بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں باہمی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔تاہم، اس کے ساتھ ساتھ عالمگیریت نے شناخت، مساوات اور ثقافتی تنوع کے تحفظ سے متعلق اہم سوالات بھی جنم دیے ہیں۔ ان ثقافتی عناصر کو سمجھنے کے لیے سنجیدہ مکالمہ، علمی تحقیق اور بین الثقافتی فہم نہایت ضروری ہے—اور یہی وہ بامعنی روابط ہیں جن کی یہ کانفرنس بھرپور نمائندگی کرتی ہے۔
سابق سفیر ڈاکٹر جمیل احمدخان نے کہا کہ آج کے دور میں علم حاصل کرنے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں، ہمارے دور میں معلومات حاصل کرنے کے لیے لائبریری میں بارہ گھنٹے گزارنے پڑتے تھے، جبکہ آج کل یہ کام چند سیکنڈ یا ہفتے میں کیا جا سکتا ہے۔ یہی اس نسل کا سب سے بڑا فائدہ ہے کہ وہ کسی بھی معلومات کو فوری طور پر حاصل کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ آج کے نوجوان ہر نئے آلے اور ٹیکنالوجی، بشمول مصنوعی ذہانت، کو اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور یہ ایک قابل رشک بات ہے۔ اگرچہ کچھ ثقافتی عناصر کسی مخصوص معاشرتی سیاق و سباق میں مکمل طور پر فٹ نہیں بیٹھتے، لیکن صحیح امتزاج سے ایک کامیاب اورموثر شخصیت تشکیل دی جا سکتی ہے۔ثقافتی امتزاج اور مشغولیت کے ذریعے ہم نہ صرف عالمی سطح پر اپنے خیالات کا تبادلہ کر سکتے ہیں بلکہ اپنے ثقافتی ورثے کو بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ یہ کانفرنس اسی مقصد کے لیے منعقد کی جا رہی ہے تاکہ طلبہ اور حاضرین عالمگیریت اور ثقافتی تنوع کے مختلف پہلوؤں پر علم حاصل کریں اور اس علم کو عملی زندگی میں نافذ کریں۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ جب ہم عالمگیریت (گلوبلائزیشن) کی بات کرتے ہیں تو یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے جو زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کر رہی ہے، چاہے ہم اسے پسند کریں یا نہ کریں۔
ڈاکٹڑخالد عراقی نے مزید کہا کہ عالمگیریت کے ساتھ ایک بڑا سوال جنم لیتا ہے کہ مختلف اقوام کی ثقافتی شناخت کو کس طرح محفوظ رکھا جائے گا؟ میں پاکستانی ہونے پر فخر کرتا ہوں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مجھے پاکستان کی ذیلی قومیتوں سے تعلق پر بھی فخر ہے۔ پنجابی، پختون، بلوچ اور سندھی،یہ سب ذیلی قومیتیں ہیں، اور انہی ذیلی قومیتوں نے پاکستان کو آزادی دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ تنوع خوشبو ہے، حسن ہے اور طاقت ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ عالمگیریت کے اس عمل کے ساتھ ثقافتی شناخت کو کیسے محفوظ رکھا جائے۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ محض تصادم یا کشمکش کارگر ثابت نہیں ہوتی ،افہام و تفہیم اور مکالمہ ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ اگر یہ مکالمہ حقیقی ہو تو ثقافتی شناخت امن کے فروغ کا ذریعہ بن سکتی ہے، اور ثقافتی ہم آہنگی پائیدار ترقی کو یقینی بنا سکتی ہے۔ اس کی بہترین مثال یورپی یونین ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپی یونین کا مطالعہ کریں کہ کس طرح انہوں نے اختلافات کے باوجود ترقی کی راہ ہموار کی۔
ڈاکٹر خالد نے واضح کیا کہ ان کی گفتگو کا محور صرف ثقافت اور شناخت کا موضوع نہیں، بلکہ وہ اس پختہ یقین کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر رواداری کو فروغ دیا جائے تو دنیا بھر میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مختلف ثقافتوں اور اقدار کو سمجھنے سے امن کو فروغ ملتا ہے، اور ثقافت کو سمجھنا نہایت اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا کے حوالے سے، گلوبلائزیشن نے اقتصادی عدم مساوات پیدا کی ہے اور اس کا اثر کمزور ممالک پر پڑا ہے۔ گلوبلائزیشن کے تضاد کو صرف ترقی یافتہ ممالک تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ ذمہ داری ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک پر مشترکہ طور پر ہونی چاہیئے۔
صوبائی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی علی راشد نے کہا ہے کہ اختلافات ہر معاشرے میں پائے جاتے ہیں، تاہم مثبت مائنڈ سیٹ کے ساتھ آگے بڑھنا ہی ترقی کی کنجی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی نے پوری دنیا کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے اور آج کی نوجوان نسل کو اسی ٹیکنالوجی کی بدولت عالمی سطح پر مواقع تک براہِ راست رسائی حاصل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فری لانسرز اور یوٹیوبرز کو درپیش مالی مسائل کے حل کے لیے ماسٹرکارڈ کے اشتراک سے پیمنٹ گیٹ وے لانچ کیا جا رہا ہے، تاکہ ڈیجیٹل شعبے سے وابستہ افراد کو ادائیگیوں کے حوالے سے کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
علی راشد کا کہنا تھا کہ جب مختلف عناصر باہم مل کر کام کرتے ہیں تو ایک مثبت اور موثر امتزاج وجود میں آتا ہے، جس کے نتیجے ملک و قوم کے لیے بہتر انداز میں کام کیاجاسکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی نوجوان نسل ایک بہت بڑی قوت ہے، کیونکہ اس وقت ملک کی تقریباً 70 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔
انہوں نے اس صورتحال کا موازنہ جاپان سے کرتے ہوئے کہا کہ وہاں آبادی میں کمی اور شرحِ پیدائش میں مسلسل گراوٹ ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، جس کے باعث جاپان نوجوان افرادی قوت کے حصول کے لیے کوشاں ہے اور شرحِ پیدائش بڑھانے کے لیے مختلف مراعات فراہم کر رہا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے کہا کہ یونیورسٹی اور دیگر ادارے طویل عرصے سے اس شہر کے مالی تحقیق و ترقی کے مرکز کے طور پر خدمات انجام دیتے آئے ہیں۔ آج ہم یہاں اس بات کا جائزہ لینے کے لئے جمع ہوئے ہیں کہ وہ کون سی تبدیلیاں ہیں جو اکثر سب سے زیادہ اثرانداز ہوتی ہیں اور کس طرح پاکستان کی ثقافتی و سماجی پہچان کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر سیف الرحمن نے مزید کہا کہ یہاں عالمی سیاست سے لے کر عالمی کاروبار تک کے موضوعات پر بات چیت ہو رہی ہے۔ ہم اس وقت میں جی رہے ہیں جب جغرافیائی حدود تقریباً غیر معنی خیز ہو گئی ہیں۔سرمایہ، افراد، آئیڈیاز اور تحریک کی اس تیز رفتاری نے ہمیں ایک عالمی گاؤں، ایک مربوط دنیا کا وعدہ دیا ہے، جہاں فاصلے کی کوئی اہمیت نہیں۔ لیکن بطور سماجی علوم کے طالب علم، ہمیں یہ اہم سوال کرنا چاہیئے کہ اس عالمی گاؤں میں کس کی آواز سنی جا رہی ہے؟ اور پاکستان کی پہچان اس میں کس طرح فٹ بیٹھتی ہے؟
بیرسٹرشاہدہ جمیل نے کہا کہ ہم سب پاکستانی ہیں، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم مسلمان بھی ہیں، مسیحی بھی، ہندو بھی، پارسی بھی اور سکھ بھی۔ ہم سب مل کر پاکستان کی مکمل تصویر ہیں، اور ہمیں یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ باہرسے اچھالے کرآئواور اپنی اچھی چیزوں کو ساتھ لے کر چلو۔
ڈاکٹر شاہدہ نے کہا کہ ہمیں اس حقیقت پر غور کرنا ہوگا کہ پاکستان سے باہر بھی ثقافتی تنوع موجود ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں لوگوں کے سوچنے کے انداز مختلف ہیں۔ ہم ایک ایسے دور تک پہنچ چکے ہیں جہاں قومیں جدید قومی ریاستوں کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ 1945 کے بعد دنیا میں قومی ریاستوں کا تصور مضبوط ہوا، اور آج دنیا میں کوئی بھی ایسا ملک نہیں جو صرف ایک ہی ثقافت پر مشتمل ہو۔ ہر ملک میں متعدد ثقافتیں پائی جاتی ہیں، کوئی بھی معاشرہ واحد ثقافت پر قائم نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ قوم پرستی ایک ایسی قوت ہے جو قوموں کو مضبوط بناتی ہے، مگر بدقسمتی سے بعض اوقات معاشروں میں تفریق پیدا کر دی جاتی ہے۔ حالانکہ تمام انسان فطرت کی تخلیق ہیں اور اسلام سمیت تمام مذاہب میں انسانوں کے درمیان مساوات کا درس دیا گیا ہے، لیکن ہم اکثر اس بنیادی حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں۔
ڈاکٹر شاہدہ نے مزید کہا کہ میں سب سے پہلے ایک پاکستانی ہوں اور اس کے بعد میری تمام شناختیں آتی ہیں۔ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے پاکستان کا تحفظ کرنا اور اس کی خدمت کرنا میرا فرض ہے۔
سابق پروفیسرشعبہ بین الاقوامی تعلقات جامعہ کراچی وسابق رجسٹرارجامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر سکندرمہدی نے کہا کہ لوگوں میں شعور اور فکر کی اعلیٰ سطح موجود ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ عالمگیریت کے نام پر کیا کچھ ہو رہا ہے۔ عالمگیریت تو ہو رہی ہے،لیکن انسانی اور سماجی عالمگیریت ابھی تک مکمل نہیں ہوئی۔ جب ہم بات کرتے ہیں تو اکثر اقتصادی عالمی کاری کی بات کی جاتی ہے۔
ڈاکٹر سکندر مہدی نے کہا کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیئےکہ عالمگیریت (Globalization) نے نئی صورتحال پیدا کی ہے۔ آج ہم مختلف ممالک میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکنان کو درپیش دباؤ، چیلنجز اور ان کی تعیناتیوں پر بات کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ مغربی ممالک میں بھی، ایک پاکستانی یا مسلمان کے لیے اسرائیل کے خلاف بات کرنا یا غزہ کے بارے میں رائے دینا آسان نہیں ہے۔
قبل ازیں رئیس کلیہ فنون وسماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کانفرنس کے اغراض ومقاصدپرتفصیلی روشنی ڈالی جبکہ ڈائریکٹر سینٹر آف ایکسلینس فارویمنز اسٹڈیز جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر اسماء منظورنے کلمات تشکراداکئے۔کانفرنس میں قومی وبین الاقوامی اسکالرزنے اپنے مقالہ جات پیش کئے۔کانفرنس سے ایکوپاتھ کے چیف ایگزیکیٹوآفیسرکامران توفیق نے بھی خطاب کیا۔


