اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)عالمی بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح گزشتہ تین سالوں کے دوران خطرناک حد تک بڑھی ہے۔ رپورٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں غربت کی شرح مالی سال 2022-23 میں 18.3 فیصد تھی، جو 2023 میں بڑھ کر 24.8 فیصد ہوگئی اور 2025 میں یہ 25.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غربت میں یہ اضافہ 2020 کے بعد سے مسلسل جاری ہے۔ عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر پاکستان کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2001 سے 2015 کے درمیان غربت میں سالانہ 3 فیصد کمی واقع ہوئی تھی، لیکن 2015 سے 2018 تک یہ شرح گر کر سالانہ 1 فیصد رہ گئی تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کی 95 فیصد افرادی قوت غیر رسمی شعبوں میں کام کر رہی ہے، جبکہ 85 فیصد ملازمین کم آمدنی والے شعبوں سے وابستہ ہیں۔ غربت میں کمی کا عمل بنیادی طور پر غیر زرعی ذرائع آمدن (57 فیصد) سے ہوا ہے، جبکہ زرعی شعبے سے غربت میں صرف 18 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی 60 سے 80 فیصد آبادی شہری علاقوں میں رہائش پذیر ہے، جبکہ سرکاری اعداد و شمار میں شہری آبادی کا تناسب محض 39 فیصد بتایا جاتا ہے۔ یہ رپورٹ ملک میں معاشی مسائل کے بڑھتے ہوئے تناسب کی واضح عکاسی کرتی ہے۔


