اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارتی وزیر خارجہ کے بیانات کا مدلل جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان درحقیقت بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ پاکستانی مندوب محمد راشد نے جمعرات کو جنرل اسمبلی میں دیے گئے خطاب میں بھارت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ “جھوٹے بیانیے اور گمراہ کن دعوؤں” پر مبنی ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90,000 سے زائد قیمتی جانیں قربان کی ہیں، جبکہ بھارت خود دہشت گردوں کی سرپرستی کرکے خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ محمد راشد نے کہا کہ بھارت سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورک چلا رہا ہے اور پراکسی عناصر کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کروا رہا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کمانڈر کلبھوشن یادو کی گرفتاری کو بھارت کی خفیہ کارروائیوں کا “زندہ ثبوت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت غیرقانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ انہوں نے پہلگام واقعے کے حوالے سے بھارت کے بیانات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ پاکستان نے آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی، جو مسترد کر دی گئی۔
محمد راشد نے 7 سے 10 مئی کے دوران پاکستان پر بھارتی جارحیت کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ اس حملے میں 54 معصوم شہری شہید ہوئے، جن میں 15 بچے اور 13 خواتین شامل تھیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارت کی غیرقانونی اور غیرذمہ دارانہ روش کو نظرانداز نہ کرے۔
پاکستانی مندوب نے اختتام میں کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور جنوبی ایشیا کے 1.9 ارب عوام کی خوشحالی کے لیے مکالمے اور سفارت کاری پر زور دیا، جبکہ متنبہ کیا کہ دھمکیوں اور خوف کی فضا میں یہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے۔


