واشنگٹن(ایچ آراین ڈبلیو) امریکی رکنِ کانگریس مارجرے ٹیلر گرین (Marjorie Taylor Greene) نے غزہ کی قحط زدہ صورتحال پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ٹیکس دہندگان کا پیسہ اسرائیل کی فوجی امداد پر خرچ ہو رہا ہے . جس کا مطلب ہے کہ ہر امریکی شہری غزہ پر ہونے والے حملوں میں شریک سمجھا جا سکتا ہے۔
گرین صاحبہ نے اسے کھلے الفاظ میں ’’نسل کشی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ میں کسی ایسی جنگ کے لیے خاموش نہیں رہوں گی-جس سے میرا کوئی تعلق نہیں اورجس میں معصوم انسان مارے جارہےہیں۔خدا سب معصوم جانوں کوبرابردیکھتا ہے-گرین نے اپنے ساتھی اراکینِ کانگریس پرزوردیا کہ وہ بھی اس مسئلےپرآواز اٹھائیں-
اورٹرمپ انتظامیہ کواپنی پالیسی تبدیل کرنےپرمجبور کریں۔تاہم ان کے بیانات پر امریکا میں سخت ردعمل سامنے آیا۔کچھ قدامت پسند ناقدین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا- اور کہا کہ غزہ کے شہریوں کے لیے امریکی ویزے یا ہمدردی ’’امریکا فرسٹ‘‘ کے اصول کے خلاف ہے۔
ڈیموکریٹک سینیٹر جان فیٹرمن (John Fetterman) نے بھی گرین کے مؤقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ نسل کشی نہیں ہے-اور انہیں غیر سنجیدہ قرار دیا-گرین صاحبہ ماضی میں بھی کہہ چکی ہیں کہ امریکی عوام کو مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ایسی جنگ کی قیمت ادا کریں جس میں معصوموں کا قتل عام ہو۔


