82

‏غزہ کی آواز انس الشریف شہید کی جگہ لینے والی غزہ کی مظلوم صحافیہ نور ابو ركبة کا تعارف

‏غزہ(ایچ آراین ڈبلیو)آواز انس الشریف شہید کی جگہ لینے والی غزہ کی مظلوم صحافیہ نور ابو ركبة کا تعارف- اس کا گھر زمین بوس کر دیا گیا۔اس کے تمام بھائی شہید کر دیے گئے، اور اب اس کا کوئی بھائی باقی نہیں رہا۔

پچھلے 22 مہینوں سے وہ بے گھر ہو کر پناہ گزین مراکز میں ادھر اُدھر پھرتی رہی — کبھی جبالیا کیمپ، پھر الفالوجا، پھر الشیخ رضوان، پھر النصر، پھر دوبارہ جبالیا اور آخر میں ایک بار پھر النصر۔

اس پر یہ بھی بھاری ذمہ داری آن پڑی کہ اپنے شہید بھائی کے یتیم بچوں کی دیکھ بھال کرے، جن کی والدہ کی کمر میں شدید چوٹ لگی جس نے انہیں معذور کر دیا۔نور نے زخمیوں کے زخموں پر مرہم رکھا، یتیم بچوں کو سہارا دیا، شہیدوں کے گھروں میں صبر کا پیغام پہنچایا، اور جانے کتنے شہداء کو اپنے ہاتھوں وداع کیا۔

آج وہ انہی دکھوں کے بیچ، سب مظلوموں کی آواز بن کر کھڑی ہے۔ وہ دنیا کو دکھا رہی ہے کہ اس کے عوام پر کس طرح کی نسل کشی اور وحشیانہ جنگ مسلط کی گئی ہے۔

نور، اپنے ساتھی شادي کے ساتھ، وہ پرچم اٹھائے ہوئے ہے جو انس، محمد، اسماعیل اور ان جیسے کئی شہید صحافی اپنے خون سے بلند کر گئے۔وہ دنیا کو یہ پیغام دیتی ہے کہ موت ہمیں خوفزدہ نہیں کر سکتی۔قتل، چاہے جتنا بھی بے رحمانہ ہو، اصل میں بزدلوں اور جھوٹے بیانیے والوں کا ہتھیار ہے۔آج زندہ رہنے والوں کو پہلے سے کہیں زیادہ سہارے کی ضرورت ہے، تاکہ سچائی ہمیشہ سورج کی طرح روشن رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں