کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ ہائیکورٹ میں بزنس مین کو بار بار کال آپ نوٹسز جاری کرنے پر عدالت ایف آئی اے پر برہم
ایک بار بلانے پر ہی تمام معلومات کیوں حاصل نہیں کی گئیں۔ جسٹس ظفر راجپوت
اگر مزید معلومات درکار ہیں تو کال آپ نوٹس میں اسکی وضاحت کی جائے۔ عدالت
وجوہات ظاہر کیے بغیر دوبارہ طلب کرنا بدنیتی اور مذموم مقاصد کیلیے ہوتا ہے ۔ جسٹس ظفر راجپوت
محمد سلیم پراپرٹی کے کام سے منسلک ہیں، ایف آئی اے بار بار طلب کر رہی ہے ،ایڈووکیٹ سردار مشتاق
کیس بھائی کے خلاف ہے لیکن میرے مؤکل کو ہراساں کیا جارہا ہے ۔وکیل
کمرشیل بینکنگ سرکل اس بات کی تفتیش نہیں کررہا کہ ڈارمنٹ اکاؤنٹ میں رقم کیسے آئی۔وکیل
کال آپ نوٹس کالعدم قرار دیئے جائیں، وکیل درخواست گزار
ہم انکوائری میں رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہتے ، عدالت
ایف آئی اے کو ہدایت کی جائے کہ انکوائری کے دوران درخواست گزار کو ہراساں نا کیا جائے۔وکیل
عدالت نے درخواست گزار کو ہراساں نا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی


