غزہ(ایچ آراین دبلیو)غزہ میں انسانوں کو نگلتی بھوک کے سائے میں وحشیانہ صہیونی حملے بدستور جارہی ہیں، اور صبح سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 67 افراد شہید ہوچکے ہیں۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے طبی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں آج صبح سے اب تک شہید ہونے والے نہتے فلسطینیوں کی تعداد 74 ہوگئی۔ طبی ذرائع کے مطابق شہید ہونے والوں میں امداد کے منتظر 34 افراد بھی شامل ہیں۔
غزہ کی پٹی میں ہر طرف جبری فاقہ کشی پھیل رہی ہے الجزیرہ کی نمائندہ ہند خضری نے رپورٹ کیا کہ غزہ کے وسطی علاقے نیتزارم اور جنوبی غزہ کے جنوبی حصے رفح میں متنازع جی ایچ ایف گروپ کے دو امدادی مراکز کے قریب آج اب تک کم از کم 20 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
فلسطینی ان مقامات پر جانے پر مجبور ہیں، جنہیں ’ موت کے جال’ کہا جا رہا ہے، کیونکہ یہ خوراک کا واحد ذریعہ ہے جو وہ حاصل کر سکتے ہیں، مگر ان میں سے بہت سے کبھی واپس نہیں آتے، یا زخمی حالت میں لوٹتے ہیں۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی جان بچانا ایک ناممکن مشن ہے کیونکہ نہ تو طبی سامان ہے، نہ ادویات اور نہ ہی بستر۔
فلسطینی تباہ حال اور بھوکے ہیں، ہر روز، ہم والدین، ماؤں اور یہاں تک کہ بچوں کی شہادتیں سن رہے ہیں۔ یہاں الاقصیٰ ہسپتال میں بچوں کو خالی برتن اٹھائے دیکھ رہی ہوں، جو کسی ایسے شخص کی تلاش میں ہیں جو انہیں کچھ سامان دے سکے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ غزہ کی پٹی کے ہر ایک کونے میں فاقہ کشی کتنی گہری پھیل چکی ہے۔


