بھارت(ایچ آراین ڈبلیو)جنگی جہازوں کی دنیا کا ایسا ستارہ جس کی زندگی اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ MiG21 ہے جس کو انڈیا باقاعدہ طور پر ستمبر 2025 میں الوداع کہنے والا ہے۔ 1955 میں اپنی پہلی پرواز سے لے کر 2025 تک یعنی اپنے 70 سالہ دور میں مگ نے بہت نام کمایا اور یہ fighter + Interceptor جہاز کم تجربہ کار پائلٹس کو بھی اڑان کا مزہ دیتا تھا۔ پاکستان کے پاس اس وقت اس کے مقابلے کے لیے F86 Sabre اور چینی ساختہ Shenyang F6 تھے جو MiG21 کے مقابلے میں کم پاور کے مانے جاتے تھے۔
بھارتی فضائیہ نے 200 مگ طیارے تباہ کروا کر 170 پائلٹوں اور 40 سویلین لوگوں کی جانیں لے کر ایک ریکارڈ قائم کیا ہے اسی لیے اس کو انڈیا میں Flying coffin کے نام سے جانا جاتا ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ بنایا جانے والا سوپرسونک لڑاکا طیارہ ہونے کا اعزاز اس MiG21 کو ہی حاصل ہے جو دنیا میں 60 ممالک کی ائیر فورس کا حصہ رہا اور 11600 کے لگ بھگ یہ طیارے بنائے گئے۔ کورین جنگ، عرب اسرائیل جنگ، ویتنام جنگ، پاک بھارت جنگوں میں اہم کردار ادا کیا۔ روس کے بعد انڈیا اس جہاز کا سب سے بڑا آپریٹر رہا ہے جس کے پاس 800 کے قریب مگ موجود تھے۔ انڈیا نے 600 کے قریب مگ اپنے ہی ملک میں تیار کیے تھے لیکن اکیسویں صدی کے آغاز سے ہی ان کی حالت بگڑنا شروع ہوگئی اور مناسب میٹینس نہ ہونے کی وجہ سے آئے دن گر کر تباہ ہونا ایک عام سے بات بن گیا۔
ایک بندہ 2019 میں پاکستان چائے پینے بھی اسی جہاز پر آیا تھا لیکن واپس پیدل گیا تھا جس پر اس کو وہاں انعام بھی ملا تھا۔ ستمبر میں چندی گڑھ ائیربیس پر MiG21 کے آخری دو Squadrons کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ دیا جائے گا۔


