واشنگٹن(ایچ آراین ڈبلیو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے جاری مذاکرات سے اچانک دستبرداری اختیار کرتے ہوئے اسرائیل کو حماس کے خلاف عسکری کارروائی تیز کرنے کی کھلی اجازت دے دی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ چند روز قبل ہی اس امید کا اظہار کر چکے تھے کہ تنازع کے خاتمے کے لیے جلد کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔
دوحہ میں جاری مذاکرات کے دوران جب ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے لیے اپنے ایلچی اسٹیو وٹکوف کی قیادت میں موجود امریکی ٹیم کو واپس بلا لیا تو وہاں شدید حیرت اور تشویش کی فضا پیدا ہوگئی۔ غزہ میں شدید انسانی بحران کی موجودگی میں یہ فیصلہ مزید خطرناک نتائج کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
چند ہفتے قبل تک ٹرمپ اس بات پر مطمئن تھے کہ غزہ میں جنگ بندی کا کوئی راستہ نکل آئے گا، مغویوں کی رہائی ممکن ہوگی اور قحط زدہ علاقے میں امداد کی فراہمی بحال ہوگی۔ لیکن جب امریکہ نے حماس پر “غیر سنجیدگی” کا الزام عائد کیا، تو مذاکراتی عمل روک دیا گیا۔ اسٹیو وٹکوف نے اعلان کیا کہ مغویوں کی رہائی کے لیے دیگر راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ “مشن مکمل کرے”، یعنی حملے مزید شدت اختیار کریں۔ سی این این کے مطابق انہوں نے عالمی برادری کے اس خدشے کو نظرانداز کیا کہ شہری آبادی کی حالت تشویشناک حد تک بگڑ چکی ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ غزہ کے عوام “زندہ لاشوں” میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ بچوں کی بھوک اور کمزوری کی دل دہلا دینے والی تصاویر دنیا بھر میں غم و غصے کا باعث بنیں۔ تیونس میں ایک اجلاس کے دوران صدر قیس سعید نے امریکی مشیر مسعد بولس کو یہ تصاویر دکھائیں اور کہا کہ یہ سب “انسانیت کے خلاف جرم” ہے۔
ٹرمپ نے امداد میں 60 ملین ڈالر دینے کا دعویٰ تو کیا، لیکن ساتھ ہی الزام لگایا کہ حماس ان امدادی اشیاء کو چوری کر رہی ہے، حالانکہ امریکی حکومتی جائزوں میں ایسی کسی بڑی چوری کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ٹرمپ کے اس اعلان کے برعکس، مصر اور قطر نے مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات مذاکراتی عمل میں تعطل آنا معمول کی بات ہے۔ ایک اعلیٰ اسرائیلی اہلکار نے بھی کہا کہ مذاکرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، اور امید ہے کہ جلد دوبارہ پیش رفت ممکن ہوگی۔
دوسری طرف، کئی مغربی اتحادیوں نے اسرائیل کے طرز عمل پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اسرائیلی حملوں کو “غیر ضروری” قرار دیا، جبکہ فرانسیسی صدر ایمانویل ماکرون نے اقوام متحدہ میں فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے عزم کا اظہار کیا، جس پر اسرائیل نے شدید ردعمل دیا۔ ٹرمپ نے اس اعلان کو بے معنی قرار دیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، غزہ میں جنگ بندی میں ناکامی اور روس۔یوکرین تنازع کے حل میں بے بسی، ٹرمپ کے نوبل امن انعام کے خواب کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ان کا حالیہ سخت مؤقف دراصل حماس پر دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہے، تاہم اس سے ان کی مایوسی بھی جھلکتی ہے، کیونکہ مذاکرات بعض بنیادی نکات پر تعطل کا شکار ہیں، جیسے جنگ کے خاتمے کا وقت اور اسرائیلی فوج کا انخلاء۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ کی پالیسی میں یہ اچانک موڑ فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لا پائے گا یا غزہ کا انسانی بحران مزید گہرا ہو جائے-


