44

غزہ،بھوک کی وجہ سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 900سے تجاوز کرگئی

غزہ(ایچ آراین ڈبلیو)میں اب تک بھوک کی وجہ سےجاں بحق ہونے والوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس وقت 71 ہزار سے زائد افراد موت کےدہانے پر ہیں اور انہیں فوری طور پر خوراک اور ادویات کی اشد ضرورت ہے۔ یونیسیف کے مطابق 4 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد شدید قحط کا شکار ہیں اور خوراک کی پانچوں خطرناک مراحل میں سب سے آخری درجے پر پہنچ چکے ہیں۔ غزہ میں خوراک کا ہی نہیں پانی کا بھی قحط ہے۔

میں غزہ کو دورِ حاضر کی کربلا لکھتا ہوں تو کئی دوست سمجھانے آ جاتے ہیں کہ صاحب کربلا صرف ایک ہی تھی۔ چلئیے پھر مجھے اُمت مسلمہ کے پچاس سے زائد ممالک کو ایک بڑا سا کوفہ کہنے دیجئیے۔ کیا میں غلط کہہ رہا ہوں ؟

ایک ویڈیو نظرسے گزری جس میں ایک جوان سالہ فلسطینی ایک پیاسے پالتو کتے کو اپنی بوتل کا آخری گھونٹ بھی پلا رہا ہے۔ جوان ویڈیو بنانے والے سےعربی زبان میں بات کررہا ہےجس کا انگریزی متن ویڈیو کے سب ٹائٹل میں لکھا ہوا تھا کہ یہ کسی کا پالتو کتا ہے اور میرے ساتھ دو دن سے آ بیٹھا ہے اور ساتھ ہی سو رہا ہے۔ جہاں انسان بھوک پیاس سے مر رہے ہیں وہاں دھماکوں سے ڈرے سہمے کتے کو کون پوچھے۔ مجھے تو اس جوان فلسطینی پر پیار آ گیا۔ مجھے نہی معلوم وہ کتا اور جوان اب تک باقی ہیں یا چل بسے۔ اگر باقی ہیں تو کیا وہ کتا ملبے تلے کچھ کھانے پینے کو ڈھونڈ رہا ہے یا وہ جوان بھی ملبے کا ڈھیر بن چکا یا ملبے کے اوپر بیٹھے اب تک کتے کی فکر میں مبتلا ہے۔

کوئی تو گھر وہ ہو گا جہاں کا جوان مکین تھا۔ ایک گھر ایسا بھی ہوتا ہو گا جس کا مکین اپنے پالتو کتے کو دن میں دو تین بار کھلاتا ہو گا۔ جواباً کتا بھی مالک یا اس کے بچوں سے کھیلتے ہوئے زمین پر لوٹتا ہو گا۔ اب یہ کتا کس سے پوچھے وہ گھر اور اس کے مکین کہاں ہیں۔ مر گئے یا یہیں کہیں کسی ملبے تلے دفن ہیں یا کسی ہسپتال میں پڑے موت کے منتظر ہیں۔

جہاں کتا بھی پیاس سے نڈھال ہے وہاں بائیس لاکھ انسانوں کا کیا عالم ہو گا ؟۔ اہلیان غزہ تو کہیں نہیں بھاگ سکتے مگر کتا تو بھاگ سکتا تھا۔وہ چاہے تو کہیں سے بھی ٹوٹی باڑ کو عبور کر کے اسرائیل میں داخل ہو سکتا ہے۔ یا مصر کی سرحد پار کر سکتا ہے۔مجھے یقین ہے مصری، اردنی اور اسرائیلی اتنے سنگدل نہیں کہ کتے کو واپس غزہ بھیج دیں۔ نہ ہی اتنے ظالم ہیں کہ کتے کو گولی مار دیں۔ یہ پابندیاں اور مصائب تو صرف غزہ میں بستے انسانوں کے لیے ہیں۔

مغربی ممالک کی این جی اوز، سلیبریٹیز، عوام اور حکمران مسلسل چیخ رہے ہیں اور احتجاجی بنے سڑکوں پر نکل رہے ہیں کہ کم از کم ہمیں خوراک تو غزہ تک پہنچانے دو۔ بی بی سی، رؤئٹرز، اے بی سی، سی این این، الجزیرہ رپورٹ پر رپورٹ نشر کرتے نوحہ کناں ہیں کہ غزہ بھوک سے مر رہا ہے نیتن یاہو جنگی جرائم کی ہر حد پار کر رہا ہے۔ ہاں، مگر او آئی سی خاموش ہے۔۔۔ انڈونیشیا تا موریطانیہ اور عرب تا عجم سب مست چل رہا ہے۔ اُمت کا جنازہ اُٹھے تو خیر صدیاں بیتیں مگر اہلِ حرم میں انسانیت کا جنازہ اُٹھے بھی سالوں بیت گئے ہیں۔

جبر کے مقابل نہتوں کا کوئی وارث نہیں بنتا۔ طاقت کے مقابل کمزور کے لیے کوئی کلمہ حق نہیں اُٹھاتا۔ طاقت سے پنجہ لڑانے کو چھوڑ کوئی آنکھ سے اسے گھورنے کا روادار نہیں ہوتا۔بہت بار ہم میں سے بہت سوں نے خود سے بھی اور ایک دوسرے سے بھی پوچھا کہ جب واقعہ کربلا ہو رہا تھا تو آس پاس کی آبادیوں کو اطلاع کے باوجود سانپ کیوں سونگھ گیا تھا؟۔ اب وجہ سمجھ میں آئی یا اب بھی نہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں