43

مودی حکومت کی مبینہ فسطائیت کا ایک نیا وار

آسام(ایچ آراین ڈبلیو)اڈانی منصوبے کی خاطر ہزاروں بنگالی نژاد مسلمانوں کے گھر بلڈوزمودی حکومت کی مبینہ فسطائیت کا ایک نیا وار سامنے آیا ہے جہاں اڈانی منصوبے کے لیے آسام کے ہزاروں بنگالی نژاد مسلم خاندانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلا دیے گئے ہیں۔ ڈکن کرونیکل کے مطابق، یہ “مودی سرکار کی آسام میں بھارتی تاریخ کی سب سے بڑی بے دخلی مہم” ہے۔

اس ریاستی ظلم کے نتیجے میں عوام بے گھر ہو گئے ہیں جبکہ سرمایہ دار راتوں رات علاقے کے مالک بن بیٹھے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، مودی حکومت نے اڈانی کو زمین دینے کے لیے ہزاروں افراد سے زبردستی ان کے گھر چھین کر سڑکوں پر بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔

ڈکن کرونیکل کی رپورٹ کے مطابق، اس کارروائی کے دوران 2,000 سے زائد خاندانوں کو ان کے گھروں سے نکالا گیا ہے۔ یہ زمین اڈانی گروپ کے تھرمل پاور پروجیکٹ کے لیے مظلوم مسلمانوں سے خالی کروائی گئی ہے۔

بے دخلی کے خلاف عوام نے شدید احتجاج کیا، جس کے دوران پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے آ گئے اور حالات کشیدہ ہو گئے۔ بے گھر افراد نے حکومت سے مکمل معاوضہ اور باوقار طریقے سے دوبارہ آبادکاری کا مطالبہ کیا ہے۔

اس واقعے نے ایک بار پھر مودی-اڈانی گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار سرمایہ داروں کے فائدے کے لیے ریاستی مشینری کو عوام کے خلاف ہتھیار بنا کر استعمال کر رہی ہے۔ یہ “سرمایہ داروں کی جنت اور غریبوں کا جہنم” بنتا “نیا بھارت” ہے-

اپنا تبصرہ بھیجیں