کولمبیا(ایچ آراین ڈبلیو) یونیورسٹی کے گریجویٹ فلسطینی کارکن کو امیگریشن ایجنٹوں نے گرفتار کیا اور انہیں کئی ماہ تک حراست میں رکھا گیا۔ غزہ کی جنگ کے خلاف یونیورسٹی کیمپس میں احتجاج کے لیے ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں ملک بدر کرنے کی کوشش کی۔
کولمبیا یونیورسٹی کے طالب علم محمود خلیل، جنہوں نے فلسطین کی حمایت میں یونیورسٹی کیمپس کے اندر احتجاجی مظاہروں میں نمایاں کردار ادا کیا، نے جمعرات کے روز ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف 20 ملین ڈالر کا دعویٰ دائر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں غلط طور پر قید کیا گیا تھا۔
محمود خلیل، قانون کے مطابق، ایک امریکی باشندے ہیں، جنہیں مارچ میں اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کالجوں کے کیمپس میں فلسطینی حامی احتجاجی تحریک میں ملوث غیر ملکی طلباء کو ملک بدر کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
خلیل کو جون میں رہائی سے قبل تین ماہ تک لوزیانا کے ایک امیگریشن حراستی مرکز میں رکھا گیا، پھر عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد ان کی رہائی ہوئی۔
محمود خلیل نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا، “مجھے امید ہے کہ یہ (کیس) انتظامیہ کے لیے رکاوٹ کا کام کرے گا۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ صرف پیسے کی ہی زبان سمجھتے ہیں۔”


