ریاض(ایچ آراین ڈبلیو)سعودی عرب نے تاریخ میں پہلی مرتبہ غیر ملکی افراد کو مخصوص شہری علاقوں میں جائیداد خریدنے کی اجازت دینے کا اعلان کر دیا، جو جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔
اس اقدام کا مقصد مملکت میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو وسعت دینا ہے، یہ فیصلہ سعودی کابینہ کی منظوری سے کیا گیا ہے جسے بلدیاتی امور و دیہی ترقی کے وزیر اور جنرل اتھارٹی برائے رئیل اسٹیٹ کے چیئرمین ماجد الحقیل نے سراہا اور اسے “جامع رئیل اسٹیٹ اصلاحات” کا تسلسل قرار دیا۔
نئے قانون میں غیر ملکی افراد کو ریاض، جدہ اور دیگر بڑے شہروں کے مخصوص علاقوں میں جائیداد خریدنے کی اجازت دی جائے گی، مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں جائیداد خریدنے کے لیے اضافی شرائط اور سخت قوانین لاگو ہوں گے۔
رئیل اسٹیٹ جنرل اتھارٹی ان علاقوں کی نشاندہی کرے گی جہاں غیر ملکی ملکیت حاصل کر سکیں گے، آئندہ 180 دنوں کے اندر آن لائن مشاورت کے ذریعے عملدرآمدی ضوابط جاری کیے جائیں گے جن میں ملکیت کے اصول، اہلیت کا طریقہ کار، اور نگرانی کے نظام شامل ہوں گے۔
یہ قانون سعودی عرب کے پریمیئم ریزیڈنسی پروگرام اور خلیجی شہریوں کے جائیداد کے حقوق سے متعلق موجودہ ضوابط کے ساتھ ہم آہنگ ہے،یہ فیصلہ سعودی وژن 2030 کے تحت کی جانے والی بڑی معاشی اصلاحات کا حصہ ہے، جس کا مقصد تیل پر انحصار کم کرکے سعودی عرب کو عالمی سرمایہ کاری اور تجارتی مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔


