کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)مہاجر قومی موومنٹ (پاکستان) کے چیئرمین آفاق احمد نے آج شہدائے اردو کی قبروں پر حاضری دی اور انکے بلند درجات کیلئےدعا کی۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آفاق احمد نے کہا کہ شہدائے اردو کے خون کا صدقہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کوسندھ کودولسانی صوبہ تسلیم کرنا پڑااوررئیس امروہوی، شاہ احمد نورانی اور پروفیسر غفور احمد سے مہاجر نمائندوں اور مہاجر بزرگوں کی حیثیت سےمعاہدہ کرنا پڑا۔آفاق احمدنےکہا کہ مہاجرقوم پڑھی لکھی اورمہذب قوم ہے، اس نے ہمیشہ محبت و رواداری کا مظاہرہ کیا لیکن اسے مہاجر قوم کی کمزوری سمجھ کر 1972میں ممتاز بھٹو نے انکے کے جذبات کی پرواہ کئے بغیر سندھی زبان کو ان پر مسلط کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں سندھ شہری و دیہی میں تقسیم ہوگیا۔ اب کراچی میں 10فیصد لوگ 90فیصد لوگوں پر زبردستی اجرک تھوپ رہے ہیں جس کے نتیجے میں شہری و دیہی سندھ کو اسکے منطقی انجام تک پہنچنا ہوگا۔
آفاق احمد نے شہدائے اردو کی قبروں پر حاضری کے بعد اسی مسجد میں نماز مغرب ادا کی اور سمن آباد فیڈرل بی ایریا میں واقع پارٹی کے کراچی ڈویژن کے دفتر گئے جہاں ضلع وسطی کے مختلف علاقوں سے تحریک میں شامل ہونے والے نئے ساتھیوں سے ملاقات کی اور انہیں آئندہ آنے والے چیلنجز سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ان ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مہاجروں کے خلاف سرکاری سطح پر سازشیں کی جارہی ہیں جن کا مقابلہ کرنے کیلئے مہاجر نوجوانوں کا متحد و منظم ہونا بہت ضروری ہے


