تہران(ایچ آراین ڈبلیو)ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے تیار ہے۔ اُنہوں نے وضاحت کی کہ اگر دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد بحال ہو جائے تو ایران کو امریکہ کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے میں ”کوئی مسئلہ” نہیں ہے۔
ایرانی صدرمسعود پزشکیان نےامریکی صحافی ٹکرکارلسن کے ساتھ ایک انٹرویو میں واشنگٹن کے ساتھ اعتماد کے بحران کا انکشاف کرتے ہوئے سوال کیا کہ ایران کیسے یقین کر سکتا ہے کہ واشنگٹن اسرائیل کو دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا؟پزشکیان نے اسرائیل پر انہیں قتل کرنے کی کوشش کا الزام لگایا تاہم انہوں نے اس کوشش کی تاریخ نہیں بتائی۔
ایرانی صدر نے کہا کہ میری جان لینے کی کوشش کے پیچھے امریکہ نہیں تھا۔ یہ اسرائیل تھا۔ میں ایک میٹنگ میں تھا، انہوں نے اس علاقے پر بمباری کرنے کی کوشش کی جہاں ہم میٹنگ میں مصروف تھے۔دوسری جانب ایران پر اسرائیل کی جانب سے ممکنہ دوبارہ حملے کے خدشے کے باعث ایرانی فوج کو مکمل ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔تمام خطرات سے نمٹنے کے لیے ایران نے فوجی تیاریوں کو مکمل کرلیا ہے، جبکہ ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر نے کہا ہے کہ اگر جارحیت کی گئی جوابی کارروائی پہلے سے زیادہ شدید ہوگی۔
امریکی صدر ٹرمپ ایک بار پھر اسرائیل کی حمایت میں سامنے آئے ہیں اور ان کی نیتن یاہو سے حالیہ ملاقات کو ”پہلے سے طے شدہ ڈرامہ”قرار دیا جا رہا ہے۔ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق ملک کے خفیہ مقامات پر ہزاروں میزائل اور ڈرونز بالکل تیار ہیں، اس بار جنگ میں قدس فورس، نیوی اور آرمی کو مکمل طور پر استعمال کیا جائے گا۔


