35

آگرہ تاج میں زہریلے گٹکے ماوے کی کھلے عام فروخت جاری ہے

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)ضلع سٹی کے تھانہ کلری کی حدود آگرہ تاج میں زہر یلے گٹکے اور مادے کی کھلے عام فروخت جاری ہے پولیس کی مبینہ سر پرستی یا چشم پوشی نے علاقے کو جرم کا گڑھ بنا دیا ہے۔

کراچی کی گزشتہ اشاعت میں عادل پان شاپ پر چلنے والے غیر قانونی دھندے کی نشاندہی کی گئی تھی جہاں ایاز عرف کچھی کا تیار کردہ زہریلا ماوا سپلائی کیا جا رہا ہے لیکن متعلقہ پولیس افسران نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایس ایچ اوکلری کو واضح طور پر آگاہ کیا گیا کہ عادل اور کچھی گینگ علاقے میں زہر بانٹ رہے ہیں لیکن تاحال نہ کوئی چھاپہ مارا گیا اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں آئی ۔

مصدقہ اطلاعات کے مطابق ایس ایچ او نے علاقے کا پور اسٹم بیٹر جمی کو ہٹا کر پورنا بیٹر پرویز کے حوالے کر دیا ہے- جو کہ ہفتہ وار بیٹ کی بنیاد پر نہ صرف مذکورہ دھندہ جاری رکھوا رہا ہے بلکہ منظم جرائم کی پشت پناہی بھی کر رہا ہے۔ذرائع کا دعوی ہے کہ بیٹر جمی کو علاقہ ٹھیکے پر دے دیا گیا ہے اور ایس ایچ او محض بالا افسران کو مطمئن رکھنے کے لیے سیٹ پر بیٹھا ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی سر پرستی میں منشیات، جوئے اور دیگر جرائم پروان چڑھ رہے ہیں۔ اہلیان آگرہ تاج نے ڈی آئی جی ساؤتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کلری تھانے کی کارروائیوں کا فوری نوٹس لیں اور عوام کو گٹکے مادے جیسے زہریلے دھندے سے نجات دلائی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں